بلدیہ ظہیرآباد کے انتخابات کی راہ ہموار حکم التواء برخواست، کمشنر بلدیہ سے سی پی آئی کی نمائندگی

   

Ferty9 Clinic

ظہیرآباد۔ بلدیہ ظہیرآباد گزشتہ تین سال سے بغیر کونسل کے اپنے امور انجام دے رہا تھا جس کی وجہ سے شہر میں عوامی مسائل کا انبار تھا۔ واضح ہو کہ حکومت تلنگانہ نے شہر ظہیرآباد کے بلدی حدود کو وسعت دیتے ہوئے شہر کے اطراف میں واقع پانچ مواضعات کو بلدیہ میں ضم کردیا تھا جن میں علی پور، پستا پور، رنجہول ، حیدرآباد اور ہوتی خرد شامل ہیں لیکن چھوٹی ہوتی کے ایک شخص نے اپنے ذاتی مفاد اور جھوٹی شہرت کو ملحوظ خاطر رکھ کر حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف 27 اگسٹ 2018 کو عدالت میں رٹ پٹیشن داخل کردی۔ جس کے بعد عدالت نے حکومت کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کردیا جس کی وجہ سے شہر ظہیرآباد میں بلدی انتخابات منعقد نہیں ہوسکے۔ مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص سی پی آئی ظہیرآباد کی بھرپور کاوش کے بعد اب ظہیرآباد میں بلدی انتخابات ہونے کی قوی امید ہے کیونکہ تین سالہ عدالتی کشاکش کے بعد بلدیہ ظہیرآباد کے انتخابات کی راہ اب بالکلیہ طور پر ہموار ہوگئی ہے۔ جسٹس ستیش چندرا شرما نے 27 جنوری 2022 کو ہوتی کے اس شخص کی درخواست پر جو حکم التواء جاری کیا گیا تھا اسے برخواست کردیا ہے۔ آج سی پی آئی کے ڈسٹرکٹ سکریٹری سید جلال الدین کی قیادت میں ایک وفد نے کمشنر بلدیہ ظہیرآباد سبھاش راؤ دیشمکھ سے ملاقات کرکے فوری بلدی انتخابات منعقد کروانے کے لئے حکومت کی توجہ مبذول کرنے کی خواہش کی ۔ اب جبکہ عدالت نے بھی ہری جھنڈی دکھادی ہے شہر ظہیرآباد میں فوری بلدی انتخابات کروائی جائیں۔ اس موقع پر کے نرسمہلو، محمد اظہر الدین، راملو، محمد اشفاق و دیگر موجود تھے۔