بلدیہ میں آئی فون تحفہ کے احکامات کالعدم

   

Ferty9 Clinic


تنازعہ پر پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق اروند کمار کا فیصلہ
حیدرآباد : جی ایچ ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو آئی فون تحفہ میں دینے کا فیصلہ متنازعہ بن جانے کے بعد پرنسپل سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق اروند کمار نے احکامات کو کالعدم قرار دیا۔ جی ایچ ایم سی میں پہلے ہی مالی مسائل ہیں، لیکن جن ارکان کی آئندہ پچاس دن میں میعاد مکمل ہورہی ہے ان میں میئر، ڈپٹی میئر، اسٹینڈنگ کمیٹی کے 15 ارکان کے علاوہ تین عہدیداروں آئی فون 12 پرو میاکس ماڈل 512 جی بی ڈاٹا تحفہ میں دینے کا فیصلہ کرکے اس کیلئے تقریباً 28 لاکھ روپئے مختص کرکے احکامات جاری کئے گئے تھے جو تنازعہ کا شکار ہوگیا۔ میڈیا اور سوشیل میڈیا میں اس پر شدید اعتراضات کئے گئے اور اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں کے بعد پرنسپل سکریٹری بلدی احکامات نے جی ایچ ایم سی کے تازہ احکامات کو کالعدم قرار دیا۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار بھی کیا اور اس سلسلہ میں کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے آئی فونس خریدنے کے فیصلے سے دستبردار ہوجانے کا مشورہ دیا۔ ماضی میں جی ایچ ایم سی بجٹ کی منظوری کے موقع پر ہر سال اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو لیاپ ٹاپ، فونس وغیرہ تحفہ کے طور پر دینے کی روایت ہے۔ اس طرز پر آئندہ مالیاتی سال کے بجٹ (2020-21) کی منظوری کے موقع پر اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان میئر و ڈپٹی میئر وغیرہ کو آئی فون دینے کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں منظوری دی گئی۔ ساتھ ہی میئر آفس میں کام کرنے والے تین سینئر آفیسرس کو بھی آئی فون تحفہ میں دینے سے اتفاق کیا گیا تھا جو موضوع بحث بن گیا۔ اس مسئلہ کو مزید متنازعہ بننے سے روکنے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔