بلدیہ میں ایک اور اپلی کیشن کاموں کی تفصیلات کا اندراج ، بدعنوانیوں پر روک لگانے کی پہل

   

حیدرآباد ۔ یکم ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ایک اور اپلی کیشن کو رائج کیا جارہا ہے ۔ ترقیاتی کاموں کی انجام دہی اور کاموں کی تفصیلات و تکمیل کو اس اپلی کیشن میں درج کیا جائے گا ۔ کہا جارہا ہے کہ اس نئے طریقہ کار سے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات اور اس کی جانچ میں آسانی ہوگی ۔ تاحال بلدیہ میں مختلف اقسام کے ایپس استعمال کیے جارہے ہیں یہ اپنی نوعیت کا منفرد ایپ تصور کیا جارہا ہے ۔ جس کے مدد سے شعبہ انجینئرنگ کو الزامات سے برات حاصل ہوگی ۔ تاہم انجینئرنگ شعبہ میں اس ایپ پر عمل آوری کے خدشات پائے جاتے ہیں چونکہ سابق میں اس طرح کی ایک کوشش ایم بی بکس کے متعلق کی گئی تھی ۔ بدنامی اور بدعنوانیوں کے دلدل میں پھنسے انجینئرنگ شعبہ کے ملازمین اور انجینئرس ایم بی بکس میجرمنٹ بکس ( ایم بی ) کی عمل آوری سے قاصر رہے ۔ انجینئرنگ کی کارکردگی کو ہر دن اس ایم بی بک میں شامل کرنا پڑتا ہے ۔ کام کی ہر دن کی تفصیلات کو درج کرنا پڑتا ہے جو عہدیدار نہیں کرتے بلکہ یہ کام خود کنٹراکٹرس ہی انجام دے رہے ہیں اور ایم بی بک میں اپنی من مانی درج کررہے تھے ۔ اور متعلقہ انجینئرس صرف دستخط تک ہی محدود رہ گئے ۔ اس طریقہ کار کو ختم کرنے کے لیے الیکٹرانک اسسٹمنٹ اینڈ مانیٹرنگ کے نام سے خصوصی اپلی کیشن کو تیار کرتے ہوئے اس کا آغاز کیا گیا تھا ۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ کنٹراکٹرس کے دباؤ کے سبب اس کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ اب اس شعبہ میں ایک اور اصلاحی اقدام کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ اس آن لائن اپلی کیشن میں انجینئرنگ شعبہ کی کارکردگی کا حساب رہے گا ۔ اس ایپ پر تجرباتی اقدام کا آغاز ہوچکا ہے ۔ مینٹننس کے علاوہ کنٹراکٹر کو کاموں کی تفصیلات ایپ میں درج کرنی ہوگی ۔ متعلقہ اے ای اس کی جانچ کرے گا ۔ اور کام کے لحاظ سے بلز کی منظوری اور بلز کی ادائیگی کی جائے گی ۔ اس ایپ کے سبب کنٹراکٹرس کی من مانی پر مکمل روک لگایا جائے گا ۔ کنٹراکٹرس کے لیے اب کام مقررہ مدت میں کسی بھی صورت میں مکمل کرنا ہوگا چونکہ وقت گذرنے کے بعد وہ ایپ میں کام کی تفصیل کو درج نہیں کرسکتا ۔ کام کی تاخیر پر بھی کنٹراکٹر اس ایپ میں تفصیل درج نہیں کرسکتا ۔ جب کہ مرمتی کام کو جنگی خطوط پر فوری اثر کے ساتھ تکمیل کرنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ کنٹراکٹرس کو بل کی حصولی میں تاخیر اور جلد بازی بھی ممکن نہیں ہوسکتی ۔ اس نئے آن لائن اپلی کیشن کے ذریعہ ایک طرف کنٹراکٹرس کو قابو میں لایا جاسکتا ہے تو دوسری طرف کنٹراکٹرس کی آڑ میں انجینئرنگ شعبہ کی من مانی پر بھی روک لگے گی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا بلدیہ میں اس اپلی کیشن پر عمل آوری ہوگی یا پھر یہ اپلی کیشن بھی الیکٹرانک ایم بی بک کی طرف برف داں کا شکار ہوگی ۔۔A