بلدیہ میں ٹی آر ایس کو واحد بڑی جماعت کا موقف، پارٹی قیادت کو یقین

   

دوسرے مقام کیلئے مجلس اور بی جے پی میں مقابلہ کی پیش قیاسی، ووٹ فیصد میں کمی سے بی جے پی مایوس ،ٹی آر ایس مطمئن

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کی رائے شماری کو ایک دن باقی ہے لیکن سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے حاصل ہونے والی نشستوں کے اندازے قائم کرچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے میڈیا اداروںکی جانب سے اگزٹ پول پر جمعرات کی شام 6 بجے تک پابندی عائد کردی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو مختلف میڈیا اداروں اور انتخابی سروے کے ماہرین نے امکانی نتائج سے واقف کرادیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے بااعتماد رفقاء کے ساتھ گریٹر حیدرآباد کے نتائج کا جائزہ لیا۔ انٹلیجنس اور خانگی سروے کرنے والے اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر چیف منسٹر پارٹی کے بہتر مظاہرہ کے بارے میں پرامید ہیں۔ بی جے پی ، کانگریس اور مجلس نے بھی اپنے اپنے ذرائع سے انتخابی نتائج کے بارے میں اگزٹ پول حاصل کرلیا ہے۔ مجموعی طور پر زیادہ تر سروے ٹی آر ایس پارٹی کے حق میں ہیں۔ تاہم پارٹی کی 2016 ء میں حاصل کردہ نشستوں میں معمولی کمی ہوسکتی ہے۔ بیشتر سروے ٹی آر ایس کے واحد بڑی پارٹی کی حیثیت سے ابھرنے کا اشارہ دے رہے ہیں جبکہ دوسرے مقام کیلئے مجلس اور بی جے پی میں مقابلہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس کو مختلف اداروں سے جو رپورٹ ملی ہے، اس کے مطابق پارٹی 70 تا 80 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ پارٹی نے اگرچہ اس مرتبہ 105 نشستوں کا نشانہ مقرر کیا تھا لیکن بی جے پی کی انتخابی مہم کے سبب بعض علاقوں میں نقصان کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ 2016 ء میں ٹی آر ایس نے 99 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ کانگریس کے واحد کارپوریٹر نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے تعداد کو 100 تک پہنچا دیا تھا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر اور ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ مطمئن ہیں کہ بلدیہ پر ٹی آر ایس کا قبضہ برقرار رہے گا۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر ٹی آر ایس بآسانی قبضہ کرسکتی ہے اور اسے کسی پارٹی کی تائید کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ 70 تا 80 نشستوں کے حصول کی صورت میں ٹی آر ایس با اعتبار عہدہ ارکان یعنی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان مقننہ کے ووٹ سے میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر بآسانی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کو رائے دہی کے تناسب میں کمی نے مایوس کردیا ہے۔ بی جے پی قائدین کو امید تھی کہ قومی سطح کے قائدین بالخصوص امیت شاہ اور یوگی ادتیہ ناتھ کی آمد کے بعد رائے دہی کا فیصد 60 تا 70 کے درمیان رہے گا جو بی جے پی کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ رائے دہی 50 فیصد سے کم ریکارڈ کی گئی جس پر بی جے پی کے حلقوں میں مایوسی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اسے 50 تا 60 نشستوں پر بآسانی کامیابی حاصل ہوگی لیکن انتخابی سروے رپورٹس کے مطابق رائے دہی کے فیصد میں کمی سے ٹی آر ایس کو فائدہ ہوگا۔بی جے پی 30 نشستیں حاصل کرسکتی ہے لیکن پارٹی قائدین کے دعوے اس سے مختلف ہیں۔ مجلس کے ذرائع 45 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ 10 نشستوں پر مقابلہ سخت رہے گا۔ انٹلیجنس اور دیگر ذرائع کے مطابق مجلس کو 30 تا 35 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ اگرچہ رائے دہی کے فیصد اور رائے دہندوں کے رجحان کی بنیاد پر انٹلیجنس اور دیگر خانگی اداروں نے اپنے طور پر اندازے قائم کئے ہیں لیکن مبصرین کے مطابق دوسرے مقام کیلئے مجلس اور بی جے پی میں مقابلہ رہے گا۔ ٹی آر ایس کے حلقوں میں اگزٹ پول نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ پارٹی قائدین کو پابند کیا گیا کہ وہ میڈیا میں نشستوں کے بارے میں کوئی دعویٰ نہ کریں۔