بلدیہ نظام آباد پرکانگریس کا پرچم لہرانا سیاسی پیشرفت

   

سیاسی حلقوں میںمہیش کمار گوڑ کی تنظیمی صلاحیتوں اور قیادت کی زبردست ستائش
نظام آباد: 14؍ فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) طویل عرصہ سے سیاسی عدم توجہ اور اندرونی کمزوریوں کا شکار سمجھے جانے والی کانگریس پارٹی نظام آباد شہر میں میونسپل کارپوریشن پر کانگریس کا پرچم لہرانا ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ برسوں سے بااثر قیادت کی موجودگی کے باوجود شہری مسائل نظر انداز ہوتے رہے اور مقامی سطح پر سینئر رہنماؤں کی موجودگی کے باوجود انتخابی سطح پر مؤثر عوامی حمایت واضح طور پر دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیمی مضبوطی اور مقامی رکن اسمبلی کی موجودگی نے مقابلہ سخت بنا دیا تھا، جبکہ رکن پارلیمان دھرم پوری اروند میئر کے عہدہ کے حصول کے عزم کے ساتھ بھرپور انتخابی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے تھے۔ انتخابی ماحول کو متاثر کرنے کی کوششوں کے باوجود بی جے پی ماضی کے مقابلہ میں ایک بھی نشست کا اضافہ کرنے میں ناکام رہی۔کانگریس کے میئر امیدوار کٹپلی نریندر ریڈی کی نامزدگی کے بعد کارپوریشن کی جانب سے بقایا جائیداد ٹیکس کی وصولی کا مسئلہ موضوع بحث بنا جسے بی جے پی نے سیاسی طور پر اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا مہم اور تنقیدی پروپیگنڈے کے ذریعے کانگریس پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی جاری رہیں، تاہم کانگریس نے منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت اپنی انتخابی مہم جاری رکھی۔ مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی اکبر اویسی کی ایک تقریر کو بھی بی جے پی نے اکثریتی طبقہ میں بڑے پیمانے پر وائرل کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جس سے بعض حلقوں میں کانگریس کو نقصان پہنچنے کی رائے ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بی جے پی اپنی سابقہ کارکردگی سے آگے بڑھنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ایسے مشکل حالات میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ نے انتخابی مہم کی کمان خود سنبھالی اور مسلسل نگرانی کے ذریعے امیدواروں کو متحرک رکھا۔ انہوں نے تقریباً 60 امیدواروں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھتے ہوئے انتخابی حکمت عملی، عوامی رابطہ مہم اور تنظیمی نظم و ضبط کو مضبوط بنایا۔ مبصرین کے مطابق انہوں نے پوری مہم کو عملی طور پر متحد قیادت فراہم کی اور کارکنوں کو منظم رکھا۔ بالآخر کانگریس نے نظام آباد بلدیہ پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی سیاسی موجودگی کا مضبوط ثبوت پیش کیا۔ سیاسی حلقوں میں اس کامیابی کو مہیش کمار گوڑ کی تنظیمی صلاحیت اور مؤثر قیادت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے، اور اپنی سیاسی سرزمین پر اس کامیابی کو پارٹی حلقوں میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔