شہر نلگنڈہ 200 مربع کلومیٹر پر محیط ، 40 کروڑ روپئے سالانہ آمدنی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن
نلگنڈہ۔ 6 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مجلس بلدیہ نلگنڈہ کو ریاست کے نئے میٹروپولیٹن سٹی کے طور پر ترقی دینے کیلئے حکومت تلنگانہ نے اقدامات تیز کردیئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے نلگنڈہ میونسپلٹی کو کارپوریشن میں تبدیل کرنے کی تجاویز تیار کرکے ریاستی حکومت کو روانہ کر دی جسے اسمبلی میں منظوری دیدی گئی۔ توقع ہے کہ بلدی انتخابات کے اعلامیہ کی اجراء سے قبل حکومتی احکامات جاری ہو۔ ذرائع کے مطابق موجودہ میونسپل حدود میں کسی قسم کی توسیع کے بغیر موجودہ شہری حدود کو ہی کارپوریشن کا درجہ دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔1951 میں قائم ہونے والی نلگنڈہ میونسپلٹی ابتدائی طور پر گریڈ۔3 میونسپلٹی تھی جس میں صرف 12 وارڈ شامل تھے۔ آبادی میں بتدریج اضافہ اور شہرکی توسیع کے پیش نظر 1987 میں اسے گریڈ۔2اور 2006 میں گریڈ۔1 اور 2018 میں خصوصی گریڈ میونسپلٹی کا درجہ دیا گیا۔ اب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر کو ’’کارپوریشن‘‘ میں اپ گریڈ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔حالیہ مردم شماری اور 2022 کے سروے کے مطابق نلگنڈہ شہر کی آبادی 2.25 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ گزشتہ دو برسوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور موجودہ تخمینہ آبادی تقریباً ڈھائی لاکھ (2.5 لاکھ) بتائی جاتی ہے۔ شہر کی سالانہ آمدنی بھی نمایاں طور پر بڑھ کر 40 کروڑ روپئے تک پہنچ چکی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے مطابق موجودہ 48 وارڈوں کو ازسرنو منظم کرکے 50 ڈیویژنوں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ ہر ڈیویژن میں اوسطاً 8,100 سے 9,500 ووٹرز ہوں۔ ماضی میں وارڈ نمبر 1 تا 24 اور وارڈ نمبر 25 تا 48 کو دو حصوں میں بانٹ کر کارپوریشن کی تشکیل کی تجویز دی گئی تھی تاہم اس بار بغیر کسی نئے مواضعات کو شامل کیے موجودہ شہری حدود کو ہی کارپوریشن میں بدلا جاسکے گا۔ واضح رہیکہ گزشتہ میں ضلع انتظامیہ نے سال 2018 میں حکومت کو نلگنڈہ کے مضافاتی دیہات کوتہ پلی، انیپرتی، چندن پلی، دنڈمپلی، ڈوپل پلی، کنچن پلی اور تپرتی منڈل کے چند مواضعات کو میونسپلٹی میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاہم عوامی مخالفت کے باعث یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ مقامی عوام کا مؤقف تھا کہ دیہی علاقوں کے انضمام سے روزگار اور مقامی خود مختاری پر اثر پڑے گااور عوام پرٹیکسوں کا بوجھ بھی بڑھ جائے گا۔لیکن اب ضلعی انتظامیہ نے حالیہ شہری ترقی، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور ریئل اسٹیٹ کے فروغ کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے نلگنڈہ کو ’’کارپوریشن‘‘ کا درجہ دینے کی موثر منصوبہ بندی کی ہے۔مجلس بلدیہ کی تشکیل1951 میں صرف دس ہزار روپئے کے سالانہ بجٹ سے آغاز کرنے والی نلگنڈہ میونسپلٹی آج 40 کروڑ روپئے سالانہ آمدنی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ شہری رقبہ اب تقریباً 200 مربع کلومیٹر تک پھیل چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے تمام تجاویز کو حتمی شکل دے کر انہیں ضلع انچارج وزیر اور دیگر متعلقہ وزراء کے ذریعہ حکومت کو روانہ کیا ہے۔ حکومت کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق دو لاکھ آبادی اور بیس کروڑ روپئے سالانہ آمدنی کارپوریشن کے قیام کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔مجلس بلدیہ نلگنڈہ اس معیار پر پورا اُترتا ہے اور موجودہ آمدنی اس سے دوگنی یعنی چالیس کروڑ روپئے ہے۔
