کچرے کی نکاسی میں پرانا شہر نظر انداز ۔ کئی علاقوں میں عوام کو اب بھی مسائل کا سامنا
حیدرآباد۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں کچرے کی نکاسی اور صفائی کے سلسلہ میں 4تا10نومبر کے دوران خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ کئی مقامات سے کچرے کی نکاسی اور صفائی کی تفصیلات جاری کی جا رہی ہیں لیکن پرانے شہر کے کئی علاقو ںمیں کچرے کی نکاسی کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور گلی کوچوں اور محلہ جات سے نکاسی اور صفائی نہ کے برابر ہے ۔ پرانے شہر کے علاقہ حسینی علم‘ فلک نما‘ بندلہ گوڑہ ‘ فاطمہ نگر‘ مغلپورہ‘ کوٹلہ عالیجاہ‘ منڈی میر عالم‘ یاقوت پورہ ‘ چندرائن گٹہ ‘ عیدی بازار‘ سنتوش نگر ‘ تالاب کٹہ اور سعید آباد کے علاوہ ملک پیٹ میں کئی علاقوں میں کچرے کی نکاسی کے اقدامات سے عوام مطمئن نہیں ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ جی ایچ ایم سی بالخصوص صفائی عملہ کی جانب سے پرانے شہر کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ شہر کے کئی علاقو ںمیں جی ایچ ایم سی کی جانب سے یومیہ کئی ٹن کچرا نکالا جا رہا ہے لیکن کشن باغ ‘ بہادر پورہ‘ چارمینار‘ یاقوت پورہ اور اطراف کے علاقوں کے عوام کو کچرے کی بدبو اور تعفن کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان کو اس سے نجات حاصل نہیں ہورہی ہے۔ کشن باغ کے مکینوں کا کہناہے کہ کئی علاقوں میں کچرے کی عدم نکاسی سے بدبو اور تعفن پھیلا ہوا ہے اور اب جبکہ وبائی امراض کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ایسے میں گندگی کی صفائی نہ ہونے سے شہریوں بالخصوص بچوں کی صحت پر مضر اثرات کے خدشات ہیں۔ یاقوت پورہ کے کئی علاقوں میں کچرے کی عدم نکاسی کے علاوہ شہر کے سب سے بڑے بس اسٹیشن املی بن کے قریب موجود کچرے کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلدیہ کے عملہ نے ان علاقوں سے کچرے کی نکاسی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے یہ کہا جار ہاتھا کہ 4تا 10 نومبر کے دوران صفائی مہم میں تمام علاقوں بالخصوص رہائشی علاقوں میں کچرے کی نکاسی کو یقینی بنایا جائیگا اور عوام میں شعور بیداری مہم چلائی جائیگی لیکن شہر میں خصوصی صفائی مہم کا بیانر لگائی ہوئی کچرے کی گاڑیاں نظر آرہی ہیں اور کچرا جوں کا توں ہے۔