صبح سے بی جے پی کا دفتر سرگرمیوں کا مرکز ، کانگریس دفتر گاندھی بھون پر مایوسی
حیدرآباد ۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کی رائے شماری کے دوران جس طرح صورتحال ہر گھنٹہ کو تبدیل ہو رہی تھی اس طرح اہم سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر سرگرمیاں بھی کبھی نرم کبھی گرم دیکھی گئیں ۔ رائے دیہی کے آغاز سے ہی بی جے پی کا دفتر سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا ۔ پارٹی کے سینئیر قائدین صبح سے ہی موجود تھے اور انتخابی نتائج کا جائزہ لے رہے تھے ۔ کارکنوں کی کثیر تعداد صبح سے جمع ہونے لگی اور جیسے جیسے ایک ایک نتیجہ کا اعلان ہوتا بی جے پی کا دفتر قائدین اور کارکنوں سے بھر چکاتھا اور کسی بھی ریالی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے پولیس چوکسی اختیار کرلی تھی ۔ شام ہونے تک بی جے پی دفتر میں تمام اہم قائدین پہونچ گئے اور کارکنوں کی تعداد ہزاروں میں پہونچ گئی ۔ وقفہ وقفہ سے آتش بازی کی جارہی تھی اور کامیاب امیدوار پارٹی آفس پہونچنے لگے ۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس دفتر میں ہر الیکشن کی طرح جوش و خروش نہیں دیکھا گیا ۔ دوپہر میں تمام اہم قائدین کو تلنگانہ بھون پہونچنے کی ہدایت دی گئی جس کے باوجود کئی قائدین نہیں پہونچ پائے ۔ کارکنوں کی تعداد توقع سے کافی کم تھی ۔ وقفہ وقفہ سے کارکنوں نے رقص اور آتش بازی کے ذریعہ کامیابی پرجشن منایا لیکن شام ہوتے ہوتے کارکن مایوس ہوگئے کیونکہ ٹی آر ایس کی نشستوں میں قابل لحاظ کمی ہوئی تھی۔ رائے دہی کے دوران صرف بی جے پی اور ٹی آر ایس کے دفاتر میں قائدین اور کارکنوں کی گھما گہمی دیکھی گئی ۔ جبکہ کانگریس اور تلگودیشم کے دفاتر سنسان تھے ۔ تلگودیشم کا کوئی قائد دفتر نہیں پہونچا جبکہ کانگریس کے ریونت ریڈی ، محمد علی شبیر ، ایم ششی دھر ریڈی ، بلرام نائیک نرنجن و دیگر قائدین کانفرنس کیلئے گاندھی بھون میں دکھائی دئے ۔