بلدی انتخابات سے قبل ہی 30 حلقوں پر بلا مقابلہ قبضہ کرنے ٹی آر ایس کی کوشش

   

بی جے پی اور کانگریس کا بُرا حال
کئی حلقوں کیلئے امیدوار بھی نہ مل سکے

حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) ریاست میں بلدی انتخابات سے قبل دیگر سیاسی جماعتو ںکے امیدواروں کی خرید و فروخت عروج پر پہنچ چکی ہے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی نے ابھی انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل ہی 30 بلدی حلقوں پر قبضہ کو یقینی بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو سینکڑوں مقامات پر امیدوار بھی نہیں مل پائے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی 400 سے زائد بلدی حلقوں میں امیدوار نہیں مل پائے ہیں اور کانگریس کو 200 بلدی حلقوں میں امیدوار نہیں مل پائے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ریاست کی مختلف بلدیات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے 30 بلدی اراکین بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں کیونکہ ان بلدی حلقوں میں اپوزیشن کی جانب سے کوئی امیدوار نے پرچۂ نامزدگی داخل ہی نہیں کرپایا ہے۔ ریاست میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بلدی انتخابات میں بھاری کامیابی کا یقین ہے اور اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ ریاست میں زیادہ سے زیادہ بلدیات پر قبضہ کو یقینی بنایا جائے۔اسی طرح کانگریس کی جانب سے بھی بنیادی سطح پر رائے دہندوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں حکومت کی ناکامیوں اور ریاست کی موجودہ صورتحال کے متعلق واقف کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے

لیکن کانگریس قائدین کا الزام ہے کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دیہی سطح پر اپوزیشن کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کارکنوں اور قائدین کی خرید و فروخت میں حکومت ملوث ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جو کہ 400 بلدی حلقوں پر امیدوار ٹھہرانے میں ناکام ہوچکی ہے وہ بنیاد پرستی اور فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے عوام کو یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت ٹی آر ایس کی ہے اور ٹی آر ایس امیدواروں کی بلدیات میں کامیابی کی صورت میں ہی ترقیاتی کام انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ تلنگانہ راشٹرسمیتی دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو انتخابات سے دور رکھنے کے لئے ان کی خرید و فروخت کے علاوہ انہیں دھمکائے جانے کے الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر رہی ہے بلکہ ریاست کی بلدیات پر قبضہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے خوف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔کانگریس پارٹی حکومت کی ناکامیوں اور ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں کے نہ ہونے کے علاوہ سیاسی حالات سے عوام کو واقف کرواتے ہوئے عوام کے درمیان میں ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ میں ہونے والے بلدی انتخابات میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور مرکزی حکومت کے فیصلوں کو قومی مفاد قرار دیتے ہوئے عوام سے رجوع ہورہی ہے۔