بلدی انتخابات میں بی سی اور مسلمانوں کو 50 فیصد ٹکٹ

   

27 تا 30 جولائی ہر گاؤں میں کانگریس جھنڈا وندن، کارکنوں کے حوصلے بلند: محمد علی شبیر
حیدرآباد۔22 ۔ جولائی (سیاست نیوز) بلدی انتخابات کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی نے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سنگا ریڈی میں کل پارٹی کے سینئر قائدین کے اجلاس سے واپسی کے بعد سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر نے بتایا کہ بنیادی سطح پر کانگریس پارٹی کا موقف مستحکم ہے۔ بنیادی سطح پر کیڈر کے حوصلے بلند کرنے کیلئے سینئر قائدین اضلاع کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے مخالف عوام فیصلوں سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے جس کا اثر بلدی انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا ۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ ریاست بھرمیں 27 تا 30 جولائی چار دن تک کانگریس پارٹی کی پرچم کشائی کی مہم چلائی جائے گی ۔ گھر گھر اور گاؤں گاؤں کانگریس کی مہم کے تحت جھنڈا وندن پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بی سی طبقات کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں شکست کے خوف سے ٹی آر ایس نے ابھی سے اپنے عوامی نمائندوں کو متحرک کردیا ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لئے وزراء اور ارکان اسمبلی کی موجودگی میں اضافہ شدہ پینشن کے سرٹیفکٹس حوالے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے بلدی انتخابات میں بی سی اور مسلم طبقات کو 50 فیصد ٹکٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہری حدود میں بی سی اور مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی موجود ہے جس کی تائید کانگریس پارٹی کو حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ پسماندہ طبقات کو سیاسی طور پر مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ کانگریس دور حکومت میں مسلمانوں کو نہ صرف تعلیم اور روزگار میں تحفظات فراہم کئے گئے بلکہ سیاسی طور پر نمائندگی میں اضافہ کیا گیا تھا۔ ٹی آر ایس برسر اقتدار آنے کے بعد سے ان طبقات کو نظر انداز کردیا گیا۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ پسماندہ طبقات سے ناانصافیوں کے خلاف 23 جولائی کو ضلع ہیڈکوارٹرس پر دھرنا منظم کیا جائے گا ۔ انہوں نے بی جے پی کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ تلنگانہ میں وہ ٹی آر ایس کی متبادل ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور حالیہ انتخابات میں اسے صرف 7 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ چار لوک سبھا حلقوں میں کامیابی کے بعد بی جے پی قائدین بے قابو ہوکر بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کی کامیابی یقینی ہے۔ انہوں نے نئے منظورہ میونسپل ایکٹ میں خامیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ وارڈس کی حدبندی اور تحفظات کے سلسلہ میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی کورٹ نے کئی بلدیات کے انتخابات پر حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ انہوں نے نئے بلدی ایکٹ کو مخالف جمہوریت قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر اقتدار کو اپنے اطراف مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ریاست کے 140 میونسپلٹیز کی اکثریتی نشستوں پر کانگریس کو کامیابی حاصل ہوگی۔ پردیش کانگریس کے عہدیداروں اور قائدین کا آئندہ اجلاس 9 اگست کو محبوب نگر میں منعقد ہوگا۔