حیدرآباد۔3۔جنوری (سیاست نیوز) بلدی انتخابات میں حصہ لینے اب 2 بچوں کی شرط تلنگانہ میں بھی ختم کردی گئی ۔ حکومت نے ادارہ جات مقامی اور بلدی انتخابات میں حصہ لینے والوں پر 2 بچوں کی پابندی کو برخواست کرنے قانون کو منظوری دے کر 2 سے زائد بچے رکھنے والوں کو بھی بلدی انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا ہے۔ پڑوسی آندھراپردیش میں چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے جنوبی ریاستوں میں آبادی کے تناسب میں گراوٹ اور مستقبل میں پارلیمان میں جنوبی ہند کی نمائندگی میں کمی کے خدشات کے بعد ادارہ جات مقامی اور بلدی انتخابات میں حصہ لینے والوں کیلئے 2 بچوں کی شرط سے دستبرداری کا اعلان کرکے قانون سازی کی تھی اور حکومت تلنگانہ نے بھی پنچایت راج انتخابات میں 2بچوں کی شرط کو برخواست کرنے کی راہ ہموار کی تھی اور اب بلدی انتخابات میں بھی 2 سے زائد بچے رکھنے والوں پر عائد پابندی کو برخواست کردیا گیا ۔ تلنگانہ اسمبلی نے آج متحدہ آندھراپردیش میں بنائے گئے2 بچوں کے قانون کو ختم کردیا ہے۔ ریاستی وزیر انوسویا سیتا اکا نے اسمبلی میں پنچایت راج ایکٹ2018 میں ترامیم کو پیش کرکے بتایا کہ تلنگانہ میں شرح پیدائش میں گراوٹ کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاست میں شرح پیدائش 1.7 ریکارڈ کی جار ہی ہے اور اس میں اضافہ ناگزیرہے اسی لئے حکومت نے پنچایت راج اداروں کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والوں کیلئے 2 بچوں کی شرط کو برخواست کرکے تلنگانہ میں شرح پیدائش کو 2.1 تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ 3
