نئے بلدی قانون پر عمل آوری ، قرعہ کے ذریعہ وارڈس کو قطعیت
حیدرآباد یکم / جنوری ( سیاست نیوز ) ریاست تلنگانہ میں منعقد شدنی مجوزہ بلدی انتخابات میں پہلی مرتبہ خواتین کو پچاس فیصد تحفظات فراہم ہوں گے ۔ تفصیلات کے بموجب مجوزہ 120 میونسپلٹیز اور 10 میونسپل کارپوریشن میں خواتین کو تحفظات فراہمی یقینی ہوگئی ہے ۔ ایک طرف سرکاری عہدیداران خواتین کیلئے وارڈس کو مختص کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف سیاسی پارٹیاں بلدی انتخابات میں مقابلہ کیلئے داخل کردہ درخواستوں کو قطعیت دینے میں مصروف ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ خواتین کیلئے وارڈس مختص کرنے کیلئے عہدیداران شفافیت برتنے کی مساعی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی دوران کمشنر و ڈائرکٹر آف بلدی نظم و نسق ( سی ڈی ایم اے ) کے ذرائع کے مطابق بلدی انتخابات بلدیہ کے نئے قانون کے مطابق منعقد ہوں گے ۔ نئے قانون کے مطابق ہر میونسپلٹی کے حدود میں پچاس فیصد وارڈس خواتین کیلئے محفوظ رہیں گے ۔ وارڈس کے اختصاص میں شفافیت اور احتیاط برتنے کیلئے متعلقہ ضلع کلکٹرس قطعیت دیں گے ۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ سال 2013 میں منعقدہ بلدی انتخابات میں خواتین کیلئے 33 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے تھے تاہم مجوزہ بلدی انتخابات میں نئے بلدیہ قانون کے مطابق تحفظات پچاس فیصد کرنے کے بعد لازماً خواتین کیلئے وارڈس کو مختص کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ تاہم یہ کام قرعہ کے ذریعہ انجام دیا جائے گا ۔