مئیر کے عہدہ پر قبضہ کے بعد بی جے پی شہر حیدرآباد کا نام تبدیل کرے گی ، آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل آوری
٭ بنڈی سنجے کی چارمینار مندر پر پوجا اور مہم کا آغاز
٭ گاؤ کشی کے نام پر ذبیحہ پر پابندی
٭ لوجہاد کے خلاف ہر دن نئے تماشے ہوں گے
٭ بی جے پی کو اقتدار سے روکنا ٹی آر ایس کیلئے ضروری
٭پولنگ میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیناعوام کی ذمہ داری
حیدرآباد ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے بلدی چناؤ میں پرچہ نامزدگی کا مرحلہ ختم ہونے کے بعد اب تشہیری مہم کا کل سے آغاز ہوگا پرچہ نامزدگیوں اور تاحال انتخابی امور سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ بلدی انتخابات میں مقابلہ راست ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان رہے گا ۔ ٹی آر ایس کو کامیابی سے دور رکھنے کیلئے بی جے پی ، آر ایس ایس کے اشارے پر کام کر رہی ہے ۔ باثوق اطلاع کے مطابق آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر میں گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا اور ٹی آر ایس کے ترقی کے نعرہ کے خلاف قوم پرستی کا نعرہ دینے اور دیگر ریاستوں کے فارمولہ کو یہاں شہر حیدرآباد میں آزمانے کا کام کیا جائے گا ۔ مئیر کے عہدہ پر قبضہ کے بعد بی جے پی شہر حیدرآباد کا نام بدلے گی اور گنگا جمنی تہذیب کے لفظ ہی سے بی جے پی کو نفرت ہے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ بی جے پی کے ریاستی صدر کا دورہ چارمینار اور مندر میں پوجا اس مہم کا ایک حصہ تصور کیا جارہا ہے جو اپنے بیان اور تقریر میں کبھی حیدرآباد کا نام نہیں لیتے بلدی چناؤ میں کامیابی کے بعد بی جے پی کی طرف سیپڑوسی ریاستوں کا فارمولہ انجام دیاجائے گا اور آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل آوری کیلئے میدان تیار کر رہی ہے ۔ بلدیہ پر قبضہ کے بعد شہر کے کمیلوں کو نشانہ بنایا جائے گا ۔ گاؤکشی کے نام پر بڑے جانوروں کی ذبیحہ پر پابندی اور لوجہاد کے خلاف شہر میں ہر دن نئے تماشے کئے جائیں گے ۔ گریٹر بلدیہ پر قبضہ دراصل ریاست میں بی جے پی کی حکومت قائم کرنے کیلئے اہم بنیاد ڈالی جارہی ہے اور بی جے پی کو روکنا صرف تلنگانہ راشٹرا سمیتی سے ہی ممکن ہوگا ۔ ایسے شہری جو صدیوں پرانی تہذیب امن و بھائی چارہ ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم دوستی کے ساتھ گنگا جمنی تہذیب کے حامی ہیں ۔ ایسے شہری ٹی آر ایس کو مضبوط کرنے کی فکر میں جٹ گئے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں 78 لاکھ سے زائد رائے دہندے پائے جاتے ہیں اور جملہ 150 بلدی ڈیویژنس ہیں ۔ ان میں راست مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی میں ہے ۔ مقامی عوامی نمائندوں پر غم و غصہ اور امیدوار سے برہمی اور پارٹی کی قیادت سے مخالفت رکھنے والے شہریوں کی یہ سونچ بنتی جارہی ہے کہ اب کی بار رائے دہی میں حصہ لیا جائے جو مختلف وجوہات کے سبب رائے دہی سے دور رہتے تھے اور اس مرتبہ رائے دہی کے فیصد کو بڑھاتے ہوئے ہر حال میں شہر کی گنگاجمنی تہذیب کو بچایا جایء ۔ شہر حیدرآباد میں گذشتہ ساڑے 6 سال کے عرصہ میں کبھی کرفیو نہیں رہا اور نہ ہی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہر طرف امن و امان ، چین و سکون پایا جاتا ہے۔عوام اس پرامن شہر کو مثالی ترقی دینے کا سہرہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو دیتے ہیں اور بہرحال ٹی آر ایس کو اقتدار پر برقرار رکھنے کیلئے اکثر شہری اپنے طور پر اقدامات کر رہے ہیں ۔