عوام ٹی آر ایس کے ساتھ، بی جے پی پر مذہبی جذبات مشتعل کرنے کا الزام
حیدرآباد۔24 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے بلدی انتخابات میں پارٹی کی شاندار کامیابی کا دعوی کیا ہے۔ رکن کونسل ای راجیشور ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور بی جے پی میں چنائو سے راہ افرار اختیار کرنے کی کوشش کی کیوں کہ عوامی رائے ٹی آر ایس کے حق میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء سے تلنگانہ میں جو بھی چنائو ہوئے وہ ٹی آر ایس پارٹی کے حق میں رہے۔ 120 میونسپلٹیز اور 10 کارپوریشنوں میں عوام نے جوش و خروش کے ساتھ رائے دہی میں حصہ لیا۔ کانگریس اور بی جے پی کو انتخابی نتائج سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیوں کہ دونوں پارٹیاں اپنی شکست تسلیم کرچکی ہیں۔ انتخابات کو روکنے کے لیے کانگریس اور بی جے پی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ متحدہ آندھراپردیش میں مجالس مقامی کے انتخابات روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں ہر چنائو مقررہ وقت پر منعقد کرنے میں کے سی آر نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ عام طور پر برسر اقتدار پارٹی انتخابات سے بچنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ اپوزیشن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ لیکن تلنگانہ میں برسر اقتدار پارٹی چنائو کے حق میں رہی جبکہ اپوزیشن انتخابات کا سامنا کرنے تیار نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ای وی ایم مشینوں پر ہو یا پھر بیلٹ پیپر پر کامیابی ٹی آر ایس کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اتم کمار ریڈی اور بھٹی وکرامارکا کے علاقوں میں بھی ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوگی۔ بھٹی وکرامارکا اور اتم کمار ریڈی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کانگریس کو ووٹ دینا جمہوریت کی بقا کو ووٹ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات کے نتائج اپوزیشن کے لیے ایک سبق ثابت ہوں گے۔ چیف منسٹر کے سی آر پر عوام کا بھرپور اعتماد ہے جس کا اظہار نتائج سے ہوگا۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن کو عوام کا فیصلہ بصداحترام قبول کرنا چاہئے۔ نتائج کے ساتھ ہی الزام تراشی مناسب نہیں ہوگی۔ ہمت اور حوصلے کے ساتھ شکست کو قبول کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی کو کیمپ سیاست کے بارے میں کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کرناٹک اور مہاراشٹرا میں کیمپ کی سیاست کس پارٹی نے کی، عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ کانگریس کا رویہ کچھ اس طرح ہے کہ اس کی کامیابی جمہوریت کی کامیابی اور دوسروں کی کامیابی بدعنوانیوں کا نتیجہ۔ تلنگانہ عوام نے ترقی اور بھلائی کی اسکیمات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ بی جے پی نے انتخابی مہم میں مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی کیوں کہ اس کے پاس مسائل کی کمی تھی۔