مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ ضروری ‘ تلگودیشم ضلع صدر اے جوجی ریڈی کا بیان
کریم نگر ۔ 7 ؍ جولائی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) میونسپل مزدوروں کی جاری ہڑتال سے لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے کے سی آر کو عنقریب ہونے والے بلدی انتخابات کے موقع پر عوام سبق سکھائیں ۔ تلگودیشم پارٹی ضلع صدر جوجی ریڈی نے ایک صحافتی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اطلاع دی ۔ پچھلے چار سال سے ماہانہ اقل ترین اجرت کی ادائیگی کے لئے تنخواہ دی جانے کے معاہدے کی عمل آوری کے لئے مزدور مطالبہ کرتے آ رہے ہیں تو بھی حکومت اس طرف کوئی قابل عمل اقدام کی کوشش نہیں کر رہی ہے ۔ حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیا ؟ عوام کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے ۔ کیا یہ غریب مزدوروں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے ؟ اگر یہ مزدور صفائی کے کاموں کو کرنا چھوڑ دیں تو عوام کی صحت پرکیا اثر پڑے گا ۔ حکومت کو خیال نہیں ہے ۔ سنہرے تلنگانہ کا راگ الاپنے والے کے سی آر کواس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو کے سی آر کے اس طرح کے ظالمانہ طرز عمل کے خلاف متحدہ ہوجانا چاہئے ۔ جوجی ریڈی نے اپیل کی کہ کے سی آر کی غفلت لاپرواہی کے سبب کالیشورم کو قومی درجہ نہیں مل پایا ہے ۔ جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ کے سی آر محض اپنے فائدے اور بدعنوانیوں کو پوشیدہ رکھنے کی خاطر مرکز سے قومی درجہ کے مطالبہ کے بجائے خانگی بینکوں سے ہزاروں کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے عوام پر بوجھ عائد کر رہے ہیں ۔ کے سی آر ضابطے کے لئے مرکز کو مکتوب روانہ کئے ہیں ۔ لیکن سنجیدگی سے قومی درجہ حاصل کرنے کے لئے کوشش کی ہی نہیں کی ۔ اگر قومی درجہ مل جاتا تو ریاست پر مرکز کا دباؤ بڑھ جاتا اور اپنے فرزند کو چیف منسٹر کی کرسی پر بٹھایا جانا مشکل ہوجاتا ۔ اس ڈر سے کوشش نہیں کی ۔ کے سی آر کی وجہ سے آج ریاست تلنگانہ لاپرواہی کا شکار ہو رہی ہے ۔ کے سی آر کو نام و نمود اپنے بڑے پن کے علاوہ پراجکٹ کی تعمیر پر درحقیقت توجہ ہی نہیںہے ۔ ریاست قرض کے سمندر میں غرق ہو رہی ہے تو ہوجانے دو ‘اس طرح کا طرز عمل ہے ۔ گوداوری پر عارضی طور پر تعمیر کردہ ڈیم غیر معیاری ہونے کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں بہہ گیا ۔ کے سی آر ‘ قائدین کے پاس اس بارے میں کیاجواب ہے ۔ دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد کے سی آر کا طرز عمل عوام کی خواہش و امیدوں کے خلاف ہے ۔ اسی لئے کے سی آر کام نہیں کر پا رہے ہیں ۔ پریشان کن حالات سے دوچار ہیں۔
