مجوزہ انتخابات بی جے پی ہندوتوا بمقابلہ ٹی آر ایس ہندوتوا ، آشرم میں چیف منسٹر کے سی آر کا اشارہ
حیدرآباد۔30اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست میں مجوزہ بلدی انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو توا بمقابلہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی ہندو توا منعقد ہوں گے۔چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے گذشتہ دنوں تریدندی چنا جیئر سوامی کی یوم پیدائش کے موقع پر شہر کے نواحی علاقہ میں موجود ان کے آشرم میں ’’ہندوتوا‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کے اشارے دئیے ہیں کہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کا مقابلہ دراصل بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے اور وہ بی جے پی سے مقابلہ کیلئے وہی ہتھیار استعمال کرنے کے متعلق غور کر رہے ہیں جس کا استعمال بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے۔ تلنگانہ کے شہری علاقو ںمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو عوام کی جو تائید حاصل ہوئی ہے اسے دیکھتے ہوئے چیف منسٹر بلدی انتخابات کے متعلق متفکر ہیں اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو توا کا مقابلہ کرنے کیلئے خود ہندوتواایجنڈہ اختیار کرلے گی ۔ پارلیمانی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کو 4 نشستوں پر تلنگانہ میں ہوئی کامیابی کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ بی جے پی اپنے لئے حوصلہ افزاء قرار دے رہی ہے کیونکہ ان عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے چیف منسٹر کی دختر کے کویتا اور ان کے قریبی رفیق بی ونود کمار کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر کا ماننا ہے کہ شہری علاقو ںمیں فروغ حاصل کرنے والی بی جے پی کو روکنے کیلئے لازمی ہے کہ ٹی آر ایس بھی ہندو توا نظریات کو اختیار کرلے۔ بتایاجاتا ہے کہ بلدی انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی نے تلنگانہ راشٹر سمیتی اور مجلس کی دوستی کو انتخابی موضوع بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان موجود تعلقات کو عوام کے سامنے آشکار کرتے ہوئے عوام کو یہ بتایا جاسکے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت عوام کو کس طرح گمراہ کررہی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حالیہ حضور نگر ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد بعض گوشوں سے یہ کہا جا رہاہے کہ بلدی انتخابات کے رجحان علحدہ ہوں گے اور مقامی مسائل کا تذکرہ کیا جائے گا ۔ حضور نگر میں بی جے پی کی ضمانت نہ بچنے کے باوجود تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے مجوزہ بلدی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی حریف سیاسی جماعت تصور کیاجا رہاہے اور قائدین کو بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کمزور تصور نہ کریں کیونکہ پارٹی نے عام انتخابات کے دوران جو غلطی کی تھی اس کا دوبارہ اعادہ نہ ہو اور ریاست کی تمام بلدیات پر ٹی آرایس کے قبضہ کو یقینی بنایا جاسکے ۔