117 بلدیات اور 6 کارپوریشنس میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات کی تیاریاں، 16 جنوری کو حتمی ووٹر لسٹ کی اجرائی
حیدرآباد ۔ 10 جنوری ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں بلدی انتخابات کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ امکان ہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن 17 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا جبکہ 14 فروری کو رائے دہی کا منصوبہ ہے۔ ریاست میں 117 بلدیات اور 6 میونسپل کارپوریشنس میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات کے انعقاد پر غور کیا جارہا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن پہلے ہی اعلان کرچکا ہے کہ 16 جنوری کو حتمی ووٹر لسٹ تمام پولنگ مراکز پر آویزاں کی جائے گی۔ اس کے بعد انتخابی شیڈول جاری کیا جائے گا۔ فروری کے پہلے ہفتے تک پرچہ نامزدگیوں کا عمل مکمل کرنے اور انتخابی مہم کیلئے ایک ہفتہ کا وقت دیا جائے گا۔ بلدیاتی انتخابات میں بی سی تحفظات ایک اہم معاملہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ بی سی طبقات کے لئے 42 فیصد تحفظات نافذ کئے جائیں گے تاہم قانونی رکاوٹوں کے پیش نظر اسے 32 فیصد تک محدود رکھنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ بی سی تحفظات کو حتمی شکل دینے کے لئے تشکیل دی گئی بی سی ڈیڈیکشن کمیٹی کے صدر نشین بی وینکٹیشور راؤ نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے۔ اگر 12 یا 13 جنور کو ریاستی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے تو اس رپورٹ کو منظوری دی جاسکتی ہے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن نافذ تھا تاہم گریٹر حیدرآباد میں 27 بلدیات کے انضمام کے بعد بلدیاتی اداروں میں بی سی آبادی کے تناسب میں معمولی کمی آئی ہے۔ اس تناظر میں مجموعی ریزرویشن کو 50 فیصد تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ایس سی اور ایس ٹی تحفظات کو 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر حتمی شکل دی جائے گی۔ دوسری جانب ریاستی الیکشن کمیشن بیالٹ پیپر سسٹم کے تحت انتخابات کرانے کی تیاری کررہا ہے۔ محکمہ بلدی نظم و نسق نے انتخابات کیلئے 85 کروڑ روپے جاری کرنے درخواست کرکے حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے ۔ ریاست کے 123 شہری بلدی اداروں کے 2996 وارڈس میں انتخابات ہوں گے۔ 2
