بلدی انتخابات کی تیاریوں کے دوران ہی جی ایچ ایم سی کی انہدامی کارروائی کیوں ؟

   

سیاسی کارکنوں کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا موقع دینے کی کوشش۔ عہدیداروں پر سیاست دانوں کے اشاروں پر کام کرنے کے شبہات

حیدرآباد۔5۔اپریل(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں بلدی انتخابات کی قیاس آرائیوں اور تیاری سے قبل کیوں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد حکام کو فٹ پاتھ پر قبضہ جات کی برخواستگی یا د آتی ہے اور کیوں عہدیدار انتخابات کی تیاریوں کے دوران ہی انہدامی کاروائیاں انجام دیتے ہیں! دونوں شہروں میں گذشتہ یوم بڑے پیمانے پر کارروائی میں 800 سے زائد قبضہ جات کو برخواست کرنے کا دعویٰ کرکے جی ایچ ایم سی عہدیداروں نے بتایا کہ اس مہم میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں کے خلاف مقدمات درج کرکے کارروائی کا فیصلہ کیاگیا اور اگر کسی مقام پر دوبارہ قبضہ جات کی کوشش کی گئی تو ان مقامات پر دوبارہ انہدامی کارروائی کی جائے گی اور قبضہ کرنے والوں پر مقدمات کا اندراج ہوگا۔ جی ایچ ایم سی کی معیاد 10 فروری کو مکمل ہونے کے بعد اب کوئی کارپوریٹر نہیں ہے اور جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے تیاریاں جاری ہیں اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد حکام تیاریوں کے دوران فٹ پاتھ اور سڑکوں پر قبضہ جات کی برخواستگی کے نام پر کاروائی کرکے چھوٹے تاجرین کو روزگار سے محروم کرچکے ہیں۔ اس کارروائی پر عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر میں سڑکوں پر قبضہ جات کو برخواست کرکے ان کی کشادگی کو یقینی بنانے کے علاوہ پیدل راہروؤں کیلئے فٹ پاتھ کو خالی کروانے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ انتخابات سے قبل ایسی کاروائیوں کے دوران سیاسی جماعتوں کے قائدین و کارکنوں کو ہنگامہ آرائی کے ذریعہ چرچہ میں رہنے کا موقع مل جاتا ہے اور غریب تاجرین کی ہمدردی حاصل کرکے وہ عوام میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ تاجرین کے ہمدرد ہیں۔ ان کارروائیوں کے پس پردہ بسا اوقات بااثر منتخبہ عوامی نمائندوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے اور ان کی اجازت کے بعد بلدی عملہ یہ کاروائیاں کرتا ہے تاکہ عوامی نمائندے عوام میں اپنی کھورہی ساکھ کو بحال کرکے انتخابی مہم میں ہنگامہ آرائی کو کارنامہ کے طور پر پیش کرسکیں۔ 4اپریل کو اس کارروائی کو شہری بھی ان کے فائدہ کیلئے کارروائی سے زیادہ عہدیداروں اور سیاستدانوں کی ملی بھگت کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور ان کا کہنا یہی ہے کہ بلدی عہدیدارسیاسی قائدین کی ایماء پر ہی چھوٹے تاجروں کو نشانہ بناکر سیاستدانوں کی خوشنودی کرنا چاہتے ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے جن علاقوں میں کارروائی کی ہے ان میں بیشتر مقامات اور سڑکوں پر دوبارہ قبضوں کو بحال کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ مقامی سیاسی کارکن ان قبضہ جات کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرکے اپنی اہمیت میں اضافہ کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ دوبارہ کارپوریٹر ٹکٹ حاصل کرسکیں اور ایوان بلدیہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوں۔ پرانے شہر کے علاوہ مونڈہ مارکٹ سکندرآباد میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی کے بعد بلدیہ حکام کی شکایت پر پولیس نے کئی مقدمات درج کئے ہیں ۔ پولیس نے از خود کارروائی میں بھی سرکاری کام میں رکاوٹ کے الزام کے تحت مقدمات درج کرکے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ /K/3

پرانے شہر میں مزید انہدامی کارروائیوں کا منصوبہ
جی ایچ ایم سی کی جانب سے اہم سڑکوںکی نشاندہی کرلی گئی
حیدرآباد 5 اپریل (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سے آئندہ چند یوم میں پرانے شہر کی بعض اہم اور مصروف سڑکوں کی نشاندہی کرکے فٹ پاتھ اور سڑکوں پر قبضہ جات کی برخواستگی و انہدامی کاروائی کا منصوبہ ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ آئندہ دنوں میں کمشنر جی ایچ ایم سی مسٹر آر وی کرنن کی نگرانی میں چارمینارتا شاہ علی بنڈہ مصروف سڑکوں کے فٹ پاتھ پر قبضہ جات کو برخواست کرنے کی مہم چلائی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر کے بعض دیگر علاقوں کی بھی بلدی حکام نے نشاندہی کرکے ان سڑکوں پر بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جن میں شمشیر گنج تا کالا پتھر پولیس اسٹیشن سڑک‘ چندرائن گٹہ تا انجن باؤلی ‘ و دیگر سڑکیں شامل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق جی ایچ ایم سی حکام اس کاروائی کیلئے ہائی کورٹ کے احکام کا حوالہ دے رہے ہیں ۔ چندرائن گٹہ تا کاٹے دن براہ بندلہ گوڑہ سڑک پر دونوں جانب ماہ رمضان میں فٹ پاتھ پر کئے گئے قبضہ جات کو برخواست کرنے و ٹھیلہ بنڈیوں کو ہٹانے بھی کارروائی کی گئی تھی ۔/K/3