آخری لمحات میں رائے دہندوں کو راغب کرنے تمام جماعتوںکی بھرپور کوشش
حیدرآباد 9 فروری (سیاست نیوز) مجالس مقامی کی مہم کا آج اختتام عمل میں آیا اور 11 فروری کو رائے دہی ہوگی۔ الیکشن کمیشن میں امیدواروں کی فہرست کے مطابق جملہ 6877 خاتون امیدوار میدان میں ہیں جبکہ امیدواروں کی جملہ تعداد 20313 ہے۔تلنگانہ کے مجالس مقامی انتخابات میں 6 ہزار سے زائد خواتین قسمت آزمارہی ہیں۔ مجالس مقامی میں خواتین کے تحفظات کے نتیجہ میں مقامی نظم و نسق میں خواتین کے رول میں اضافہ ہوگا۔ 6184 خاتون امیدوار شادی شدہ ہیں جو جملہ خاتون امیدواروں کا 90 فیصد ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مجالس مقامی انتخابات میں سیاسی رہنماؤں نے خواتین کیلئے مختص نشستوں پر اپنے گھر والوں کو امیدوار بنایا ہے۔ بیشتر خاتون امیدوار مقامی قائدین کی اہلیہ یا بہن ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق خاتون امیدواروں میں 564 کے ساتھ سنگاریڈی ضلع سرفہرست ہے۔ کریم نگر میں 403 اور نظام آباد میں 379 خاتون امیدوار ہیں۔ ملگ 46 اور ہنمکنڈہ میں 11 خواتین ہیں اور خاتون امیدواروں میں مذکورہ دونوں اضلاع آخری درجہ میں ہے۔ پسماندہ طبقات اور عام زمرہ کی نشستوں میں سیاسی پارٹیوں نے خواتین کو ترجیح دی ہے۔ اوپن زمرہ یعنی غیر محفوظ نشستوں کے تحت 3569 خاتون امیدوار میدان میں ہیں۔ بی سی وومن کی مختص نشستوں پر 1612، ایس سی وومن 816 اور ایس ٹی طبقہ کے زمرہ میں 154 خاتون امیدوار میدان میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عام زمرہ اور بی سی جنرل زمرہ میں 493 خاتون امیدوار قسمت آزمائی کررہی ہیں۔ امیدواروں کی عمر 30 تا 55 سال کے درمیان ہے۔ خواتین کو ٹکٹوں کے معاملہ میں 1650 امیدواروں کے ساتھ کانگریس سرفہرست ہے۔ بی آر ایس نے 1585 خواتین کو ٹکٹ دیا ہے۔ آزاد امیدوار کے طور پر 1467 خواتین میدان میں ہیں۔ بی جے پی نے 1420 خواتین کو ٹکٹ دیا ہے۔ دیگر جماعتوں میں مجلس 149، جن سینا 142 اور فارورڈ بلاک نے 138 خواتین کو ٹکٹ دیا ہے۔آخری دن تمام جماعتو ں نے رائے دہنو ں کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔1