بلدی انتخابات کے دوران شراب کی فروخت سے حکومت کو ریکارڈ آمدنی

   

ایک ماہ میں2500 کروڑ کا منافع، سیاسی جماعتوں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی
حیدرآباد : تلنگانہ میں حکومت کو شراب کی فروخت سے ماہ نومبر میں ریکارڈ آمدنی ہوئی ہے۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کے پیش نظر حکومت نے رائے دہی اور نتائج کے دن شراب کی دوکانات کو بند رکھا تھا باوجود اس کے شراب کی ریکارڈ فروخت سے حکومت کو 2567 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے جبکہ عام حالات میں ماہانہ 1700 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے۔ یکم تا 25 نومبر شراب کی فروخت میں غیرمعمولی اضافہ درج کیا گیا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 26 نومبر تا 29 نومبر کے درمیان 867 کروڑ کی شراب فروخت ہوئی جوکہ ایک ریکارڈ ہے۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کے پس منظر میں یہ اضافہ درج کیا گیا۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے رائے دہندوں میں دولت اور شراب تقسیم کی گئی جس کے لئے بڑے پیمانے پر اسٹاک جمع کیا گیا تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ محض 4 دنوں میں شراب کی فروخت میں غیرمعمولی اضافہ انتخابی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ 29 نومبر تا یکم ڈسمبر دوکانات کو بند رکھا گیا تھا جس کے نتیجہ میں سیاسی جماعتوں اور عوام نے پہلے ہی سے اسٹاک کرلیا تھا۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں شراب کی فروخت میں اضافہ کی اطلاعات ہیں۔ ریاست میں شراب کی دوکانوں کی تعداد 2211 ہے۔ انتخابی مہم سے بھلے ہی برسر اقتدار پارٹی کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن سرکاری خزانے کو شراب کی فروخت سے بھاری فائدہ پہنچا ہے۔