حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کا ریاستی الیکشن کمیشن پر داسوجو شراون کا الزام
حیدرآباد۔ 28 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے مجوزہ میونسپل انتخابات کے لئے ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابی عمل جمہوری روایت کے مطابق نہیں ہے بلکہ حکمران جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لئے انتہائی عجلت اور منصوبہ بندی کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ داسوجو شراون نے کہا کہ ووٹر لسٹ کی تصدیق کے لئے محض ایک دن، پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے لئے صرف دو سے تین دن اور انتخابی مہم کے لئے ایک ہفتہ سے بھی کم وقت دینا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ انتخابی شیڈول کے اعلان اور نوٹیفکیشن کے درمیان ایک دن کا بھی وقفہ نہیں رکھا گیا جس سے شفاف اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ معاملہ اس وقت مزید حساس ہوگیا جب یہ شیڈول میڈارم سمکاساراکا جاترا کے دوران جاری کیا گیا۔ ایسے وقت انتخابات کا اعلان عوامی جذبات اور روایات کی کھلی توہین ہے۔ داسوجو شراون نے کہا کہ ریاستی الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں آکر ایک ’’کنٹرولڈ انتخابی عمل‘‘ کو آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی دفتر کی فائل نمٹانے کا کام نہیں بلکہ یہ جمہوریت کی بنیاد ہوتے ہیں اور اس طرح کی جلد بازی ان بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ریاست میں کوئی دستوری بحران نہیں ہے اور نہ ہی حکومت معطل ہوئی ہے تو پھر انتخابات کرانے کی ایسی عجلت کیوں دکھائی جارہی ہے۔ اس مختصر شیڈول کا سب سے زیادہ نقصان اپوزیشن جماعتوں، آزاد امیدواروں بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کو ہوگا جو سیاست میں نئے ہیں اور محدود وقت میں اپنی بات عوام تک نہیں پہنچا پائیں گے۔ 2