تلنگانہ کی 121بلدیات اور 10بلدی کارپوریشن میں انتخابات کی راہ ہموار
حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست میں بلدی انتخابات کے مقدمہ میں حکومت کو اہم راحت دیتے ہوئے انتخابات منعقد کرنے کی اجازت فراہم کردی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں بلدی انتخابات کے سلسلہ میں اپوزیشن کے علاوہ دیگر تنظیموں کی جانب سے داخل کردہ اعتراضات پر گذشتہ چند ماہ سے سنوائی جاری تھی اور عدالت نے انتخابات کے انعقاد کے عمل کو مؤخر رکھا تھا لیکن آج اس مقدمہ میں سماعت کے دوران عدالت نے تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کی 121 بلدیات اور 10 بلدی کارپوریشن میں انتخابات کی راہ ہموار کردی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے مقدمہ کی سماعت کے دوران مختلف امور کا جائزہ لینے کے بعد ان بلدیات میں انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت کے احکام کا جائزہ لینے کے بعد بلدی انتخابات کے سلسلہ میں شیڈول اور اعلامیہ کی اجرائی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ عدالت کے احکام کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی بلدیات میں بھی انتخابات منعقد کئے جائیں گے علاوہ ازیں اضلاع میں موجود بلدیات کے انتخابات بھی منعقد کئے جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ عدالت کے احکام کے بعد حکومت کی جانب سے جن بلدیات کی معیاد ابھی باقی ہے ان کے انتخابات کے متعلق بھی غور کرنا شروع کردیا ہے جن میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے علاوہ سدی پیٹ ‘ اچم پیٹ‘ ورنگل اور کھمم کی بلدیات شامل ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کی تمام بلدیات کے انتخابات کے یکساں انتخابات کے سلسلہ میں غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ان انتخابات کے انعقاد سے قبل جی ایچ ایم سی کے نئے قوانین کو بھی روشناس کروائے گی۔عدالت نے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں فراہم کئے گئے تحفظات کو بھی برقرار رکھتے ہوئے انتخابات کروانے کی اجازت دیدی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے ریاست کے اضلاع میں موجود بلدیات کے انتخابات کی اجازت کے بعد ریاست کے تمام اضلاع میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ ایک ہفتہ میں ہی حکومت کی جانب سے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرلیا جائے گا کیونکہ حکومت اور ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں پہلے ہی مکمل کرلی تھیں اور عدالتی احکام کے سبب ان میں رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔