بلدی کنٹراکٹرس کو 300 کروڑ کے بقایا جات ،کام روک دینے کنٹراکٹر س کی دھمکی

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ ترقیاتی کاموں میں تیزی پیدا ہوگی لیکن کنٹراکٹرس نے بلز کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں کاموں کو روک دیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں چند ایک ہنگامی کاموں کے علاوہ دیگر کاموں کو بلز کی عدم ادائیگی کے سبب روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 3000 سے زائد کنٹراکٹرس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طویل عرصہ سے زیر التواء بلز جاری کئے جائیں۔ کنٹراکٹرس نے بیشتر جاریہ کاموں کو 21 ڈسمبر سے روک دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ گریٹر میونسپل کارپوریشن کو 300 کروڑ روپئے کے بقایا جات 20 ڈسمبر تک جاری کرنے چاہیئے۔ کنٹراکٹرس اسوسی ایشن نے ’ نوپیمنٹ، نوورک ‘ کا نعرہ لگایا ہے۔ اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ہنمنت ساگر نے بتایا کہ مختلف مینٹننس کاموں اور پراجکٹس کے سلسلہ میں گذشتہ پانچ ماہ سے 300 کروڑ کی اجرائی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاموں کی تکمیل کیلئے کنٹراکٹرس نے فینانسرس سے رقومات حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ میٹریل سپلائیرس اور ورکرس کو ادائیگی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی روڈ ڈیولپمنٹ پلان اور روڈ مینٹننس پراجکٹ کے تحت کام کرنے والے خانگی اداروں کو بلز بروقت جاری کئے جارہے ہیں۔ اسوسی ایشن نے کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار کو الٹی میٹم دیا کہ اگر بقایا جات جاری نہیں کئے گئے تو ہنگامی نوعیت کے کام بھی روک دیئے جائیں گے۔