بلز کی منظوری میں گورنرس کی تاخیر کو روکنے دستوری ترمیم ضروری

   

صدرنشین لاء کمیشن کو ونود کمار کا مکتوب
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) ریاستی گورنرس کی جانب سے حکومت کے منظورہ بلز کے کلیرنس میں تاخیر کے مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے لاء کمیشن کے صدرنشین سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے لاء کمیشن کے صدرنشین ریتو راج اوستھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دستور میں ترمیم کی اپیل کی ہے تاکہ گورنرس کو اندرون 30 دن حکومت کے بلز کی منظوری کا پابند بنایا جائے۔ دستور کی دفعہ 200 میں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ گورنرس ’’جتنا جلد ممکن ہوسکے‘‘ بلز کے بارے میں فیصلہ کریں۔ ونود کمار نے کہا کہ اس دفعہ میں ترمیم کرتے ہوئے ’’ جتنا جلد ممکن ہوسکے ‘‘ کی جگہ ’’ اندرون 30 دن ‘‘ کا لفظ شامل کیا جائے تاکہ حکومتوں کے بلز کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ مختلف ریاستوں کے گورنرس کی جانب سے بلز کی منظوری میں تاخیر کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ دستور ہند میں گورنر کو بل کی منظوری یا مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض گورنرس جان بوجھ کر اسمبلی اور کونسل میں منظورہ بلز کے کلیرنس میں دستوری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے غیر ضروری تاخیر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی دفعہ 200کے تحت گورنر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ حکومت کے منظورہ بل کو پاس کریں یا پھر اسے نظرثانی کیلئے واپس کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری ترمیم کے ذریعہ ریاستوں کی کارکردگی میں گورنرس کی رکاوٹ کو دور کیا جاسکتا ہے۔ ونود کمار نے صدرنشین لاء کمیشن سے درخواست کی کہ وہ مرکزی حکومت کو دفعہ 200 میں ترمیم کی سفارش کریں۔ ر