بلقیس بانو کیس، ملزمین کی رہائی انصاف کے مغائر

   


ظہیرآباد میں صدر ایم پی جے محمد عبدالعزیز کی پریس کانفرنس
ظہیرآباد۔10ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدر ایم پی جے تلنگانہ محمد عبدالعزیز نے یہاں آج اسلامک سنٹر میں طلب کردہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس بانو کیس کے 11 مجرمین کی حکومت کی جانب سے کی گئی رہائی کو انصاف کے مغائر اور اسے ایک کمیونٹی کے حق میں بدبختانہ عمل قرار دیا۔ انہوں نے بلقیس بانو واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس بانو جو کہ اس وقت حاملہ تھیں ، نہ صرف ان کی 11 بدقماش افراد نے اجتماعی زنا بالجبر کیا بلکہ شکم مادر کو چیر کر نومولود کو قتل بھی کیا۔ یہ جمہوری تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کے مجرمین نہ صرف سنگین سزا کے مستحق ہیں بلکہ سنگین جرائم کے مرتکبین کے لئے عبرتناک درس کے نقیب بھی تھے۔ انہوں نے ملک کی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی تقریب کے موقع پر ریاست راجستھان کے موضع کے ایک اسکول میں ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کی جانب سے ایک گلاس پانی پینے کو ایک سنگین جرم تصور کرتے ہوئے اس کے ساتھ جو غیر انسانی برتاؤ کیا گیا وہ قابل مذمت و شرمناک حرکت ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آج آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے باوجود بھی ملک میں چھوت چھات کو آزادی نہیں ملی۔ انہوں نے واضح طورپر کہا کہ تحریک امن و انصاف (ایم پی جے) غیر سیاسی اور غیر مذہبی تنظیم ہے جو نہ صرف ملک کے محروم انصاف طبقات کو درپیش مسائل کی یکسوئی کیلئے بلا لحاظ مذہب و ملت آواز بلند کرتی ہے اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کی برقراری کے لئے مصروف بہ کار رہتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پریس کانفرنس کے انعقاد سے قبل اپنی تنظیم کے رفقاء کے ساتھ ایریا ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے نہ صرف زیر علاج مریضوں کا حال دریافت کیا بلکہ ان میں میوہ جات بھی تقسیم کئے۔ بعد ازاں مجسمہ امبیڈکر کے قریب احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بلقیس بانو کیس کے مجرمین کی رہائی پر صدائے احتجاج بلند کیا۔ اس موقع پر محمد ایوب احمد صدر ایم پی جے ظہیرآباد ، ایل جناردھن ، گوپال پوار، بنسی چوہان ، محمد کلیم الدین ، محمد فاروق ، محمد عبدالستار ، محمد افضل ، ریئس خان ، محمد معیزالدین، یاسر خان ، محمد شکور ، محمد قیصر ، محمد قطب الدین ، سکندر احمد ، محمد وحید ، محمد عباس ، محمد اعجاز پاشاہ ، محمد نصیر الدین ، محمد نعیم اللہ ، محمد عظیم، عرفان احمد کے علاوہ دیگر موجود تھے –