بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں

   

جرائم ایک بہانہ … نائیڈو اور نتیش اصل نشانہ
ووٹ چور گدی چھوڑ … راہول کے نعرہ سے سیاسی سونامی

رشیدالدین
جمہوریت یا پولیس اسٹیٹ۔ نریندر مودی حکومت یا ہٹلر کی حکمرانی۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کی گونج وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ دستوری ترمیمی بل کے بعد سیاسی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔ مودی حکومت 130 ویں ترمیم کے ذریعہ ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتی ہے۔ جرائم مٹانے کے نام پر اپوزیشن کو مٹانے کی سازش تیار کی گئی ۔ دستوری ترمیم کے ذریعہ کوئی بھی چیف منسٹر ، ریاستی وزیر ، مرکزی وزیر حتیٰ کہ وزیراعظم اگر کسی سنگین معاملہ میں مسلسل 30 دن جیل میں رہتے ہیں تو 31 ویں دن عہدہ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ کوئی بھی ایسا مقدمہ جس میں پانچ سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، اگر اس معاملہ میں عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیئے جانے اور سزا کے اعلان تک بھی انتظار نہیں رہے گا بلکہ گرفتاری کی بنیاد پر عہدہ سے محروم کردیا جائے گا۔ دستوری ترمیم کے ذریعہ جرائم کے خلاف کارروائی تو محض ایک بہانہ ہے جبکہ اپوزیشن اور بعض حلیف پارٹیاں اصل نشانہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جرائم کے خلاف جس شخص نے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا، وہ خود گجرات میں مختلف جرائم کے مقدمات میں جیل جاچکا ہے اور گجرات کی عدالت نے انہیں تڑی پار بھی کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد بے قصور قرار پائے اور ججس کو جس طرح اپنے حق میں کیا گیا، اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ نریندر مودی آئندہ مزید پانچ برسوں تک اقتدار میں برقراری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور ملک کی بعض ریاستوں میں موجود اپوزیشن حکومتوں کا صفایا کرتے ہوئے ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کی تیاری ہے ۔ دستوری ترمیم کی پیشکشی کی ٹائمنگ سے بھی کئی سوال پیدا ہورہے ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن تو دوسری طرف کچھ حلیف پارٹیاں اس ترمیم کا نشانہ بن سکتی ہیں۔ اگر کوئی حلیف پارٹی بغاوت پر اتر آئے تو یہ قانون اسے اقتدار سے محروم کردے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گجرات کے فرضی انکاؤنٹرس اور فسادات کے مقدمات کا سامنا کرنے والے امیت شاہ نے بل کو متعارف کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ وہ مجرمانہ مقدمات سے محفوظ ہیں۔ مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد مقدمات سے بری ہونے والے امیت شاہ سماج سے جرائم کے خاتمہ کا درس دے رہے ہیں۔ مجوزہ ترمیمی بل دراصل غیر دستوری ، غیر قانونی اور غیر جمہوری ہے۔ قانون کی نظر میں جب تک جرم ثابت نہ ہو، ملزم ہی کہا جاتا ہے اور مودی حکومت کسی کے خلاف بھی جھوٹے مقدمات درج کر کے 30 دن جیل میں رکھ سکتی ہے ۔ 31 ویں دن گورنر کو حکومت کے خلاف کارروائی کا اختیار رہے گا ۔ اگر حکومت چاہے تو 30 دن سے قبل گورنر سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کے ذریعہ کارروائی کرسکتی ہے۔ دستوری ترمیم کی آڑ میں کسی بھی مخالف کو کرسی سے بے دخل کیا جاسکتا ہے ۔ ملک میں ووٹ چوری کے خلاف بہار میں راہول گاندھی کی ووٹ ادھیکار یاترا کی کامیابی نے بی جے پی کے ہوش اڑادیئے ہیں۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ نریندر مودی نے الیکشن کمیشن کی مدد سے ووٹ چوری کی اور چور راستہ سے تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے۔ ووٹ چوری اور راہول گاندھی کی یاترا سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے متنازعہ دستوری ترمیم متعارف کی گئی ہے ۔ نائب صدر جمہوریہ کے الیکشن سے عین قبل دستوری ترمیم دراصل حلیف پارٹیوں کو این ڈی اے امیدوار رادھا کرشنن کے حق میں تائید پر برقرار رکھنا ہے ۔ اگر کوئی حلیف پارٹی اپوزیشن امیدوار کی تائید کے بارے میں سوچ بھی لے تو اسے دستوری ترمیم کا شکار ہونا پڑے گا ۔ مبصرین کے مطابق این ڈی اے حکومت کی دو بیساکھیوں چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات ابھی بھی زیر دوران ہیں اور وہ 50 دن سے زائد تک جیل میں گزارچکے ہیں۔ ویسے بھی چندرا بابو نائیڈو موقع پرستانہ سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں اور وہ فی الوقت نریندر مودی کا ساتھ چھوڑنے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ بہار کے الیکشن میں اگر نتیش کمار کسی بھی لمحہ دل بدلو کی سیاست کرنا چاہیں تو انہیں 30 دن جیل کے ذریعہ کرسی سے بیدخل کردیا جائے گا۔ دستوری ترمیم کا بنیادی مقصد ممتا بنرجی ، ایم کے اسٹالن ، تیجسوی یادو اور دیگر مخالفین کو نشانہ بنانا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو ، ہیمنت سورین اور اروند کجریوال جیل کی تفریح کرچکے ہیں اور ان پر خطرہ کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ دستوری ترمیم کی منظوری سے مودی حکومت کو دلچسپی نہیں اسی لئے بل کو پارلیمانی کمیٹی سے رجوع کردیا گیا ۔ بل کو متعارف کرنا دراصل ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو دیگر بلز کی طرح بآسانی منظوری حاصل کی جاسکتی تھی۔ قومی تحقیقاتی ایجنسیاں سی بی آئی ، ای ڈی ، انکم ٹیکس اور دوسرے مرکزی حکومت کے اشارہ پر کام کرتے ہیں ۔ ایسے میں کسی کو جھوٹے مقدمات میں پھانس کر 30 دن تک جیل میں رکھنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ گزشتہ 11 برسوں میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کا مخالفین کے خلاف جس طرح استعمال کیا گیا، ملک جانتا ہے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے کیسس میں کئی اپوزیشن قائدین کو نشانہ بنایا گیا لیکن جیسے ہی قائدین نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی، مودی ڈٹرجینٹ سے ان کی دودھ سی سفیدی کی طرح مقدمات سے صفائی کردی گئی۔ اپوزیشن میں ایک بدعنوان شخص بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی دیانتدار بن جاتا ہے ۔ گزشتہ 11 برسوں میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے 5892 مقدمات درج کئے لیکن محض 15 تا 20 مقدمات میں سزا ہوئی ۔ مقدمات میں 90 فیصد اپوزیشن قائدین تھے اور ان میں سے بیشتر مودی ڈٹرجینٹ سے صفائی کے بعد چیف منسٹر ، ڈپٹی چیف منسٹر ، مرکزی وزیر ، ریاستی وزیر یا رکن پارلیمنٹ بن گئے ۔ آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما ، مدھو کوڑا اور اجیت پوار زندہ مثالیں ہیں۔ اپوزیشن حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے ارکان کی خریدی کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ چیف منسٹر کو 30 دن جیل میں رکھو اور حکومت گرادو۔ دستوری ترمیم میں وزیراعظم کے عہدہ کو شامل کرنا اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے ۔ کوئی تحقیقاتی ایجنسی یا عہدیدار نریندر مودی کے خلاف کارروائی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ مودی مخالفین کا چاہے وہ عہدیدار ہوں یا سیاسی قائدین کیا حشر ہوتا ہے ، ملک اچھی طرح جانتا ہے ۔ 2019 الیکشن میں ایک عہدیدار نے نریندر مودی کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لی تھی لیکن اسے معطل کردیا گیا۔ حالانکہ اس نے اپنی ڈیوٹی انجام دی تھی۔
’’ووٹ چور گدی چھوڑ‘‘ راہول گاندھی کی ووٹ ادھیکار یاترا میں اس نعرہ نے بہار سے ملک کی سیاست میں ایک نئی سونامی کا آغاز کیا ہے ۔ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے ذریعہ 65 لاکھ رائے دہندوں کے نام خارج کرنے کے بعد الیکشن کمیشن کی کئی بے قاعدگیاں منظر عام پر آرہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے جن کو مردہ قرار دیا تھا، وہ زندہ ہوکر میڈیا کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔ مہاراشٹرا کے بعد بہار میں ووٹ چوری کے معاملہ کو بے نقاب کرنے کیلئے راہول گاندھی نے تیجسوی یادو کے ساتھ ووٹ ادھیکار یاترا کا آغاز کیا جو دن بہ دن مقبولیت اختیار کررہی ہیں۔ راہول گاندھی کی یاترا سے خوفزدہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے دھمکیوں کا سہارا لیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ملک میں اب تک دو عوامی تحریکات مقبول ہوئیں جن میں ایمرجنسی کے وقت جئے پرکاش نارائن کی تحریک اور حالیہ برسوں میں انا ہزارے کی تحریک شامل ہیں۔ تیسری عوامی تحریک ووٹ چوری کے خلاف راہول گاندھی کی شروع کردہ جدوجہد ہے۔ مرکزی حکومت نے ووٹ چوری معاملہ پر پارلیمنٹ میں مباحث سے انکار کیا۔ سیاسی اعتبار سے بہار ہمیشہ قومی سیاست میں تبدیلی کا آغاز ثابت ہوا ہے ۔ ووٹ چوری کے خلاف تحریک بہار سے نکل کر دیگر ریاستوں میں پھیل سکتی ہے اور اس حملہ کا سامنا کرنا بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے بس کی بات نہیں ہے ۔ بقول تیجسوی یادو بہاریوں کا ووٹ کاٹنا آسان نہیں کیونکہ ’’ایک بہاری سب پر بھاری‘‘ ہوتا ہے۔ ’’ووٹ چور گدی چھوڑ‘‘ کا نعرہ عام آدمی کی زبان پر آچکا ہے اور پہلی مرتبہ الیکشن کمیشن پر سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوچکا ہے ۔ الیکشن کمیشن راہول گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں اور وہ جواب کے بجائے دھمکیاں دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کا جواب بی جے پی قائدین دے رہے ہیں۔ کمیشن نے راہول گاندھی سے حلفنامہ کا مطالبہ کیا لیکن بی جے پی رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر سے حلفنامہ طلب کرنے کی ہمت نہیں جنہوں نے کانگریس کے 6 لوک سبھا حلقوں میں فرضی ووٹرس کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ووٹ چوری معاملہ میں بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی پارٹنرشپ عیاں ہوچکی ہیں۔ کمیشن کو سی سی ٹی وی فوٹیج حوالے کرنے پر محض اس لئے اعتراض ہے کہ خواتین کی بے پردگی ہوگی۔ الیکشن کمیشن ہر ریاست میں رائے دہی کے وقت مسلم خواتین کے نقاب اٹھاکر چہرہ کی شناخت کرنے کی جو کوششیں کرتا ہے ، اس وقت خواتین کی بے پردگی کا خیال کیوں نہیں آیا۔ افتخار عارف نے کیا خوب کہا ہے ؎
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی