واشنگٹن : امریکی ذرائع ابلاغ میں امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے دورہ مشرق وسطیٰ کو ناکام قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جریدہ ‘دی نیشنل’ نے بلنکن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں خبر کو “ہفتے کے اواخر میں بلنکن کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی ہوا نکل گئی ہے” کی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔دی نیشنل کے مطابق بلنکن کا دورہ “ناکام ہی نہیں شرمناک بھی ہے”۔خبر میں کہا گیا ہے کہ صدر جو بائڈن نے غزہ کو ملیا میٹ کرنے کیلئے اسرائیل کی حمایت کی ہے لیکن بلنکن اپنے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران اتحادی ممالک سے اسے قبول نہیں کروا سکے۔ نتیجتاً بائیڈن کا دورہ ،’مشرق وسطیٰ حکمت عملی’ کے اختتام کا مفہوم رکھتا ہے۔خبر میں بلنکن کے دورہ ترکیہ کو بھی جگہ دی گئی اور کہا گیا ہے کہ صدر رجب طیب اردغان نے بلنکن کے ساتھ ملاقات مسترد کر دیاور وہ صرف وزیر خارجہ خاقان فیدان کے ساتھ ملاقات کر سکے ہیں۔امریکہ کے وزیر خارجہ کو ایک منفی جواب اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی طرف سے بھی مِلا ہے۔خبر میں کہا گیا ہے کہ بلنکن مصر سے بھی خالی ہاتھ لوٹے ہیں۔ مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری نے غیر مشروط فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ امریکہ انتظامیہ دوہرے معیار پر عمل کر رہی ہے۔