واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ کشیدہ تعلقات کے ماحول میں وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا غیر معمولی دورہ بیجنگ، چین کے ساتھ پیش رفت کا باعث بنا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز کہا کہ وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے دورہ بیجنگ کے بعد امریکہ اور چین کے تعلقات پھر سے ’’’صحیح راستے پر‘‘ آ گئے ہیں۔کیلیفورنیا میں موسمیات سے متعلق ایک پروگرام کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ”ہم اب صحیح راستے پر ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بلنکن نے اپنے دو روزہ دورے کے دوران کافی پیش رفت کی۔ واضح رہے کہ ان کا دورہ پیر کے روز ہی ختم ہوا۔بائیڈن نے اپنے اعلیٰ سفارت کار کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلنکن نے ”ایک مشکل ترین کام” انجام دیا۔واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے دورے بیجنگ کے دوران امریکہ اور چین نے اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان ہر طرح کے تنازعے سے بچنے کیلئے مواصلاتی لائنوں کو کھلا رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔آبنائے تائیوان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے حوالے سے بھی دونوں میں شدید عناد ہے اور پھر اس ماحول میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ امریکہ نے ایک مبینہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرایا۔ اس کے ساتھ ہی یوکرین کے خلاف روسی جنگ پر اختلافات نے بھی دونوں میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔بلنکن گزشتہ پانچ برسوں کے دوران چینی دارالحکومت کا دورہ کرنے والے اعلیٰ ترین امریکی اہلکار ہیں۔ انہوں نے چین کے صدر ِژی جن پنگ اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران بلنکن نے چین اور امریکہ کے درمیان تمام اہم متنازعہ امور پر بات کی۔بیجنگ میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم نے پیشرفت کی ہے اور ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔
تاہم تسلیم کیا کہ اس میں سے کوئی بھی مسئلہ محض ایک دورے سے حل نہیں ہوتا۔”امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے بعد میں ایک امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چین میں زیر حراست تین امریکی شہریوں کی رہائی پر بھی امریکہ اور چین بات چیت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ”میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، لیکن ہم اس حوالے سے بہت فعال طریقے سے بات کر رہے ہیں۔”