پریاگ راج میں انہدامی کاروائی پر آر ایل ڈی سربراہ جینت چودھری کا ردعمل
لکھنؤ: اترپردیش میں دو دن قبل نماز جمعہ کے بعد پریاگ راج، ہاتھرس، فیروز آباد اور دیگر مقامات پر تشدد کے معاملے میں پولیس نے اب کارروائی شروع کردی ہے، جس کے تحت تشدد میں ملوث ملزین کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں۔ اس سب کے درمیان آر ایل ڈی سربراہ جینت چودھری نے بلڈوزر کی کارروائی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلڈوزر قانون کی حکمرانی کو نافذ نہیں کر رہا۔ بلکہ ریاستی سرپرستی میں غنڈہ گردی کی علامت بن گیا ہے!دراصل جینت چودھری کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب آج پریاگ راج تشدد کے مبینہ ماسٹر مائنڈ محمد جاوید عرف پمپ کے مبینہ طور پر غیر قانونی گھر پر بلڈوزر چلایا گیا۔ اس سے قبل بھی حالیہ مظاہروں کے سلسلے میں کئی افراد کے گھروں کو بلڈوز کیا جا چکا ہے۔ تاہم بہت سے لوگ اس پر سوال اٹھا رہے ہیں اور یوگی حکومت پر تعصب کا الزام لگا رہے ہیں۔اتر پردیش پولیس تشدد میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں مصروف ہے۔ پولیس نے اب تک ریاست میں 300 سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں پریاگ راج سے 91، ہاتھرس سے 51، سہارنپور سے 71، مرادآباد سے 34، فیروز آباد سے 15، علی گڑھ سے چھ، امبیڈکر نگر سے 34 اور جالون سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس نے ان تمام لوگوں پر پتھراؤ کرنے، ماحول خراب کرنے اور لوگوں کو اکسانے کا الزام لگایا ہے۔ فسادیوں کے خلاف پولیس کی کارروائی مسلسل جاری ہے۔ اس وقت ان تمام اضلاع کے تشدد زدہ علاقوں میں سیکورٹی کے انتظامات معمول پر ہیں اور حالات قابو میں ہیں۔