بلیک فنگس انفیکشن کا تیزی سے پھیلاؤ

   

کوٹھی کے ای این ٹی ہاسپٹل میں بیڈس فل ، ایک ضعیف شخص 7 گھنٹوں تک اسٹریچر پر پڑا رہا
حیدرآباد :۔ بلیک فنگس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ کوٹھی کے ای این ٹی ہاسپٹل میں تمام بیڈس فل ہوچکے ہیں ۔ آندھرا پردیش سے آنے والے مریضوں کو شریک کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ ایک مریض ہاسپٹل کے احاطہ میں اسٹریچر پر 7 گھنٹوں تک پڑا رہا ۔ ہاسپٹل میں سٹی اسکیان کی بھی سہولت نہیں ہے ۔ ہاسپٹل کا عملہ بلیک فنگس انفیکشن کے شکار مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل جانے کا مشورہ دے رہا ہے ۔ حکومت نے بلیک فنگس انفیکشن کے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے کوٹھی کے ای این ٹی ہاسپٹل کو نوڈل ہاسپٹل کے طور پر اعلان کیا لیکن اس ہاسپٹل میں بیڈس اور آکسیجن کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مریض پریشان ہیں ۔ زندگی بچانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں ۔ بلیک فنگس کا علاج کرانے کے لیے مریضوں کو ہاسپٹل کے پاس ڈاکٹرس اور طبی عملہ کے سامنے منت و سماجت کرنا پڑرہا ہے ۔ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں ۔ کورونا سے حال ہی میں صحت یاب ہونے والا گنٹور کا 70 سالہ ضعیف شخص گنڈیا بلیک فنگس انفیکشن سے متاثر ہوگیا ۔ حیدرآباد کے کوٹھی ہاسپٹل میں اس ہاسپٹل میں علاج کی سہولت ہونے کی وجہ سے ان کے رشتہ دار گنڈیا کو کوٹھی کے ای این ٹی ہاسپٹل سے رجوع ہوئے مگر وہ صبح 10 تا شام 4-30 بجے تک ہاسپٹل کے احاطے میں اسٹریچر پر پڑا رہا ۔ اس مریض کو زندگی بچانے کے لیے تڑپتے ہوئے دیکھا گیا ۔ ڈاکٹرس نے پہلے اس مریض کے رپورٹس کا معائنہ کرنے کے بعد آدھار کارڈ کی بنیاد پر غیر مقامی کا علاج کرنے سے انکار کردیا ۔ شام میں اس مریض کو گاندھی ہاسپٹل جانے کا مشورہ دیا گیا ۔ سرسلہ کی ایک 70 سالہ ضعیف خاتون بھی ایمبولنس میں آکسیجن پر پہونچی لیکن اس خاتون کو بھی گاندھی ہاسپٹل جانے کا مشورہ دیا گیا ۔ سوریہ پیٹ کی ایک نوجوان لڑکی بھی بلیک فنگس انفیکشن سے متاثر ہوئی ۔ اس لڑکی کو بھی ای این ٹی ہاسپٹل میں شریک نہیں کیا گیا ۔ اس کو بھی ڈاکٹرس نے گاندھی ہاسپٹل جانے کا مشورہ دیا ۔ حکومت کی جانب سے کوٹھی کے ای این ٹی ہاسپٹل کو نوڈل ہاسپٹل میں منتقل کیا اور 30 بیڈس مختص کیے جس میں صرف 7 بیڈس آکسیجن پر مشتمل ہے ۔ تمام بیڈس فل ہوچکے انفیکشن کتنا پھیل گیا ہے اس کا جائزہ لینے کیلئے ہاسپٹل میں سٹی اسکیان کی بھی سہولت نہیں ہے ۔ فی الحال ہاسپٹل میں 51 افراد بلیک فنگس انفیکشن کے مریض زیر علاج ہیں ۔ ہاسپٹل میں مزید 50 بیڈس کا اضافہ کرنے کی تجویز ہے ۔ مگر ہاسپٹل میں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہے ۔ ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شنکر سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ انفیکشن کا شکار کئی لوگ ہاسپٹل کو پہونچ رہے ہیں ۔ فی الحال 50 بیڈس فل ہوچکے ہیں ۔ آندھرا پردیش سے آنے والے مریضوں کو شریک کرنے کیلئے حکومت نے کوئی احکامات جاری نہیں کئے ۔ بہت جلد ہاسپٹل میں بیڈس کی تعداد 100 تک بڑھا د