بلیک فنگس سے متاثر ایک کسان کی آنکھ نکال دی گئی

   

آپریشن کے لیے 15 لاکھ روپئے کے اخراجات ، ادویات پر یومیہ 60 ہزار روپئے کے مصارف
حیدرآباد :۔ بلیک فنگس کا شکار ایک کسان کی آنکھ نکال دی گئی ہے ۔ ریاست میں بلیک فنگس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ کوٹھی کا ای این ٹی ہاسپٹل جس کو حکومت نے ماڈل سنٹر قرار دیا ہے ۔ اس کے تمام بیڈس مریضوں سے بھر گئے ہیں ۔ کئی مریضوں کو علاج کے لیے سرکاری و خانگی ہاسپٹلس کے دوڑ دھوپ کرتے دیکھا گیا ہے ۔ ضلع بھوپال پلی کے مہادیو پور منڈل میں واقع موضع امبٹ پلی کا 42 سالہ کسان سامیا گذشتہ ماہ کورونا سے متاثر ہوا اور ورنگل کے ایک خانگی ہاسپٹل میں علاج کرانے کے بعد صحت یاب ہوگیا ۔ ایک ہفتہ کے بعد اس کی ایک آنکھ لال ہوگئی ۔ پہلے ہنمکنڈہ کے ایک ہاسپٹل میں دکھانے پر ڈاکٹرس نے حیدرآباد جانے کا مشورہ دیا ۔ حیدرآباد کے ایک خانگی ہاسپٹل سے رجوع ہونے پر ڈاکٹرس بعد معائنہ بلیک فنگس ہونے کی تصدیق کی اور اس کا اثر آنکھ میں ہونے کے بعد آنکھ میں انفکشن پھیل جانے کی نشاندہی کی ۔ آنکھ نہ نکالنے کی صورت میں جان کو خطرہ ہونے کا ارکان خاندان کو انتباہ دیا جس پر ارکان خاندان نے ان کے پاس موجود تین ایکڑ اراضی رہن رکھتے ہوئے 15 لاکھ روپئے تک طبی اخراجات برداشت کیا ۔ ڈاکٹرس نے آپریشن کرتے ہوئے کسان کی ( سیدھی ) آنکھ نکال دی اور تین دن قبل کسان کو ڈسچارج کردیا اور آئندہ دس دن تک ادویات استعمال کرنے کی ہدایت دی اور ایک دن کے ادویات پر 60 ہزار روپئے کے مصارف ہیں ۔۔