نظام آباد اور کاما ریڈی میں اموات سے سنسنی ، دیہی علاقوں میں علاج کی سہولتیں نہیں
حیدرآباد: حکومت نے تلنگانہ میں بلیک فنگس کے کیسیس میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی کو علاج کا مرکز قرار دیا ہے ۔ اگرچہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی بلیک فنگس کے معاملات منظر عام پر آئے تاہم تلنگانہ کے بعض اضلاع میں کیسیس کی تعداد تشویش کا باعث بن چکی ہے ۔ نظام آباد اور کاما ریڈی اضلاع میں 6 سے زائد اموات واقع ہوئیں جبکہ 10 مریضوں کو علاج کے لئے حیدرآباد منتقل کیا گیا ۔ اضلاع میں بلیک فنگس کے علاج کی کوئی سہولت نہیں ہے ۔ مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل یا پھر ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی منتقل کیا جارہا ہے۔ مریضوں کے رشتہ داروں کی شکایت ہے کہ دونوں دواخانوں میں بلیک فنگس کے لئے موثر ادویات موجود نہیں ہے اور انہیں باہر سے دوائیں خریدنے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔ دونوں ہاسپٹلس میں کئی مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر کے مطابق کورونا سے صحت یاب ہونے والے ایسے افراد جن کی شوگر زیادہ ہے، وہ بلیک فنگس سے متاثر ہوئے ہیں۔ شوگر اور بی پی کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد اس نئے عارضہ سے بآسانی بچ سکتے ہیں۔ کاما ریڈی کے 6 متاثرین کو علاج کے لئے حیدرآباد منتقل کیا گیا تھا جن میں سے دو علاج کے دوران فوت ہوگئے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ کورونا کی طرح بلیک فنگس کے علاج کے لئے ہنگامی حکمت عملی تیار کی جائے کیونکہ کیسیس کی تعداد میں تیزی اضافہ ہورہا ہے ۔