بلیک میں کمرشل سلنڈرس، ہوٹل انڈسٹری بحران کا شکار!

   

فی سلنڈر 6 ہزار روپئے تک فروخت، اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، روزگار متاثر ہونے کا خدشہ
حیدرآباد 3 اپریل (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں کمرشل گیس سلنڈرس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نے ہوٹل، میس اور ریستوران کا کاروبار شدید متاثر کردیا ہے۔ گیس کی قلت اور بلیک مارکٹنگ کے باعث 19 کیلو گرام کمرشیل گیس کا ایک سیلنڈر بلیک میں 5 تا 6 ہزار روپئے میں فروخت ہورہا ہے جس پر کاروباری افراد نے جہاں اپنی برہمی ظاہر کی ہے وہیں ہوٹل میں تیار ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرتے ہوئے عام افراد اور متوسط طبقہ پر اضافی مالی بوجھ عائد کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گریٹر حیدرآباد، اضلاع رنگاریڈی اور میڑچل میں تقریباً 40 تا 50 ہزار کمرشل گیس کنکشن موجود ہیں جہاں روزانہ 12 تا 15 ہزار سلنڈرس کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم مغربی ایشیاء میں جاری جنگ کے بعد گیس کی سپلائی متاثر ہوئی جس سے قلت پیدا ہوگئی۔ دوسری جانب آئیل کمپنیوں نے بھی یکم مارچ اور اس کے بعد یکم اپریل کو کمرشل گیس سیلنڈرس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں یکم مارچ تک 1961.50 روپئے میں دستیاب ہونے والا کمرشل گیس سیلنڈر کی قیمت میں پہلی مرتبہ 144 روپئے اور دوسری مرتبہ 214.50 روپئے کا اضافہ کیا گیا جس سے تمام ٹیکس کے ساتھ کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت 2,320 روپئے ہوچکی ہے۔ لیکن بلیک مارکٹ میں یہی سیلنڈر کئی گنا مہنگا ہوکر 5 ہزار تا 6 ہزار روپئے میں فروخت ہورہا ہے۔ ہوٹل اور ریستوران مالکان کا کہنا ہے کہ گیس سیلنڈرس کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کاروبار چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ دونوں شہروں کے چند ہوٹل اور ریستوران کے منیجرس نے دعویٰ کیا ہے کہ جو معمولی منافع حاصل ہوتا تھا وہ بھی مہنگے گیس سیلنڈرس پر خرچ ہورہا ہے جس کی وجہ سے ہوٹلس آہستہ آہستہ بند ہورہی ہیں۔ متعلقہ حکام پر یہ تنقید بھی کی جارہی ہے کہ وہ بلیک مارکٹنگ کو روکنے میں ناکام ہورہے ہیں جس کا نقصان چھوٹے کاروباری افراد کو اُٹھانا پڑرہا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہیں کئے گئے تو شہر میں چھوٹے ہوٹلوں اور ٹفن سنٹرس کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے جس سے نہ صرف روزگار متاثر ہوگا بلکہ عوام کو بھی مہنگے کھانے کا سامنا کرنا ہوگا۔2