حیدرآباد۔/25 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تاریخ گواہ ہے کہ اکثر گنیش اُتسو تہوار کے دوران شہر حیدرآباد میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں اور ماہ ستمبر حکومت کیلئے ستمگر ثابت ہوا ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد شہر حیدرآباد بالخصوص پرانا شہر پُرامن رہا ہے۔ شہر کے امن و امان کو بگاڑنے کی منظم سازش کے تحت بی جے پی کے معطل شدہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے شان رسالت ؐ میں گستاخی کی ہے جس پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور مسلمان گذشتہ تین چار دن سے مسلسل دن رات ملعون راجہ سنگھ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے اور قانون کے تحت سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جس سے شہر حیدرآباد میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ پولیس کی جانب سے سخت سیکوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں اور ان کشیدہ حالات کے دوران سوشیل میڈیا پر بنڈی سنجے کا ایک ویڈیو وائرل ہوگیا ہے جس میں وہ رکن پارلیمنٹ کی جگہ جیوتشی بنے ہوئے ہیں۔ پرجا سنگرام یاترا کو پولیس کی جانب سے روک دینے کے خلاف انہوں نے اپنی قیامگاہ کریم نگر پر دن کے 11 تا دو پہر ایک بجے تک دو گھنٹوں پر مشتمل دکھشا کا اہتمام کیا۔ حال ہی میں کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے ڈی شراون کے علاوہ بی جے پی کے دوسرے قائدین شہ نشین پر تلنگانہ بی جے پی کے ساتھ موجود تھے اور پیچھے سے پارٹی کے کارکن نعرہ بازی کررہے تھے۔ بنڈی سنجے کے قریب شراون بیٹھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر تک انہوں نے کچھ بات چیت کرلی جو مائیک میں سنائی نہیں دی۔ اس کے بعد بنڈی سنجے نے شراون کے ساتھ کانا پھوسی کی۔ بنڈی سنجے نے کہا کہ حیدرآباد جارہا ہوں۔ تھوڑی دیر کی بات چیت کے بعد بنڈی سنجے کے منہ سے ’ فرقہ وارانہ فسادات ‘ کی بات سنائی دی جس کا آڈیو ، ویڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہورہا ہے۔ اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے چیف منسٹر کے سی آر پر صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے ساتھ ملکر جمعہ کو حیدرآباد میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش کا الزام عائد کیا۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر نے کہا کہ دہلی شراب اسکام میں چیف منسٹر کے سی آر کی دختر کے کویتا ملوث ہے ، سی بی آئی تحقیقات کررہی ہے۔ اس مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے چیف منسٹر ریاست میں گڑبڑ کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک چیف منسٹر اپنے دور حکمرانی میں ریاست کے لاء اینڈ آرڈر کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کل پرگتی بھون میں منعقد کئے گئے لاء اینڈ آرڈر کے اجلاس کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ دراصل حیدرآباد میں جو کشیدہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کیلئے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے شان رسالتؐ میں گستاخی کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ بی جے پی کی قومی قیادت نے راجہ سنگھ کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے معطل کردیا ہے۔ تاہم تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے سارے واقعہ کو چیف منسٹر اور مجلس سے جوڑتے ہوئے اُن پر فسادات کرانے کی سازش کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ بی جے پی کی قومی قیادت تلنگانہ پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور اقتدار حاصل کرنے کیلئے ناپاک عزائم کے ساتھ کام کررہی ہے۔ حیدرآباد میں جمعہ کو فسادات ہونے کا بنڈی سنجے کو کیسے پتہ چلا ہے یہ بات سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور ان ریمارکس پر پولیس چوکس ہوگئی ہے۔ کل سے پرانے شہر کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ ریاپڈ ایکشن فورس کی پرانے شہر میں پریڈ کرائی گئی ہے۔ شام 8 بجے سے پرانے شہر میں اور 10 بجے سے نئے شہر میں پولیس نے دکانات کو بند کرایا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بگڑنے سے روکنے کیلئے سخت سے سخت اقدامات کرنے کی پولیس کو ہدایت دی ہے۔ جس کے بعد پولیس سرگرم ہوگئی ہے۔ن