ترقیاتی کاموں پر مباحث کا چیلنج، سوشیل میڈیا سے خدمت ممکن نہیں
حیدرآباد۔ وزیر پنچایت راج ای دیاکر راؤ نے بی جے پی ریاستی صدر بنڈی سنجے کو مشورہ دیا کہ وہ زبان قابو میں رکھیں اور قومی جماعت کے ریاستی صدر کی حیثیت سے باوقار انداز میں گفتگو کریں۔ دیاکر راؤ نے گریٹر حیدرآباد کے میر پیٹ ڈیویژن میں ٹی آر ایس منتخب امیدوار کی تہنیتی تقریب میں شرکت کی اور بنڈی سنجے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سنجے گھٹیا زبان استعمال کررہے ہیں اور انہیں یہ گمان ہے کہ بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا حالانکہ ان کے بیانات سے عوام سخت ناراض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرکز کے عوام سے کئے گئے وعدوں کے مسئلہ پر سنجے کو کھلے مباحث کا چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے کالا دھن واپسی اور ہر اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا۔ حالیہ سیلاب کے متاثرین کیلئے مرکز نے ایک روپیہ بھی منظور نہیں کیا ۔ بی جے پی قائدین گمراہ کن بیانات اور سوشیل میڈیا کے سہارے سیاست کررہے ہیں۔ دوباک کے عوام بی جے پی کو کامیاب کرنے کے بعد آج افسوس میں ہیں۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ ورنگل میں بی جے پی بلدی انتخابات میں کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے سنجے کو ورنگل میں ٹی آر ایس حکومت کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے عوام بی جے پی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ترقی ٹی آر ایس سے ممکن ہے۔ اشتعال انگیز بیانات اور سوشیل میڈیا کی مہم سے عوام کی خدمت نہیں کی جاسکتی۔ دیاکر راؤ نے میر پیٹ ہاؤزنگ بورڈ کالونی کے مسائل کی یکسوئی کا تیقن دیا۔ تقریب سے رکن اسمبلی سبھاش ریڈی، کارپوریٹر پربھاداس اور دوسروں نے مخاطب کیا۔