چیف منسٹر کا سیاسی مستقبل روشن، مختلف طبقات کے دانشوروں کی تائید
حیدرآباد۔20۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین بی ونود کمار نے بی جے پی صدر بنڈی سنجے سے سوال کیا کہ وہ سیاست چھوڑ کر کب سے جیوتشی بن چکے ہیں۔ بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کی تنظیم نے ونود کمار سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ میں تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات کی تائید کی۔ اس موقع پر دانشوروں نے حکومت کے خلاف بی جے پی اور کانگریس قائدین کی مہم کی مذمت کی ۔ ونود کمار نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بنڈی سنجے سیاست چھوڑ کر جیوتشی بن چکے ہیں۔ وہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے سیاسی مستقبل کے بارے میں پیش قیاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کا مستقبل کافی بہتر ہے اور بنڈی سنجے کو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہئے۔ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کی تنظیم نے بی جے پی اور کانگریس قائدین کی الزام تراشی کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کی ترقی کے لئے کابینہ میں جو فیصلے کئے گئے ، وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے تعلیم کو نظر انداز کردیا تھا ۔ دانشوروں نے سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم کو متعارف کرنے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر غریب بچہ کو معیاری تعلیم حاصل کرنے میں یہ اسکیم مددگار ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر ایم دھننجے نائک ، ڈاکٹر جی ہری چرن ، ڈاکٹر بی رمنانائک اور عثمانیہ یونیورسٹی کے اسکالر ڈاکٹر روی تیجا کے علاوہ دیگر اسکالرس نے کابینی فیصلوں کا خیرمقدم کیا ۔ ر