بی جے پی کرپشن کو دہلی میں پیش کروں گا، ضرورت پڑنے پر نئی قومی سیاسی جماعت : کے سی آر
حیدرآباد۔/13فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کو چیلنج کیا کہ ان میں ہمت ہو تو انہیں جیل بھیج کر دکھائیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے انتباہ دیا کہ وہ دن دور نہیں جب خود بنڈی سنجے کو جیل بھیج دیں گے۔ کے سی آر نے کہا کہ جیل سے چور گھبراتے ہیں اور انہیں جیل کا کوئی خوف نہیں ہے۔ مودی حکومت میں 33 افراد بینکوں کو دھوکہ دے کر بیرون ملک فرار ہوچکے ہی لیکن ان کی گرفتاری کی کوئی فکر نہیںہے ۔ فرار ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق گجرات سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کرپشن اور بے قاعدگیوں کے بی جے پی کے معاملات کو نئی دہلی میں بحث کا موضوع بنایا جائے گا۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کو کرپشن کے مسئلہ پر مباحث کا چیلنج کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اُتر پردیش انتخابات کے بعد پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حجاب کے مسئلہ پر ملک میں غیر ضروری منافرت پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں اگر مذہبی جذبات بھڑکائے جاتے ہیں تو ملک کا کیا ہوگا۔ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنا کہاں تک درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں گورنر کے عہدہ کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ سرکاریہ کمیشن نے گورنر کے عہدہ کے سلسلہ میں سفارشات پیش کی تھی۔ ریاستوں کی آزادانہ کارکردگی روکنے کیلئے گورنرس کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر نئی قومی سیاسی جماعت قائم کریں گے۔ہمارے پاس طاقت موجود ہے۔ نئی پارٹی کے قیام میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سیاسی محاذ سے زیادہ ملک میں عوامی محاذ کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممبئی جاکر ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نریندر مودی حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ جس وقت اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم تھے عوام کو بی جے پی پر بھروسہ تھا۔ کرناٹک، مدھیہ پردیش، منی پور میں بی جے پی نے چور دروازے سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ مہاراشٹرا میں حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے جو کوششیں کی گئیں اس سے ہر کوئی واقف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ بنڈی سنجے کو دیکھنے پر انہیں افسوس ہوتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی چیز نہیں جانتے اور ناخواندہ کی طرح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے صدر جو پارلیمنٹ کے رکن ہیں مجھے پتہ نہیں کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں یا نہیں۔ وہ بے بنیاد الزامات کے ذریعہ خود اپنا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ حقائق جاننے کے بعد ہی اظہارِ خیال کریں۔ر