ہم بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں ، اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں : بی سمن
حیدرآباد :۔ گورنمنٹ وہپ بی سمن نے تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کی جانب سے چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ بنانے اور غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں ۔ مگر ہماری تہذیب و تربیت ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ بنڈی سنجے کے ریمارکس سے سماج کا سرشرم سے جھک جارہا ہے ۔ انہوں نے بنڈی سنجے سے استفسار کیا کہ عوام نے انہیں کریم نگر لوک سبھا کارکن بنایا ۔ اپنے حلقہ کی ترقی کے لیے انہوں نے کیا کیا ہے ۔ اس کی عوام سے وضاحت کریں ۔ بی سمن نے کہا کہ کریم نگر اسمارٹ سٹی کے لیے جو فنڈز جاری ہونے والے ہیں بنڈی سنجے دہلی پر دباؤ ڈال کر اس کو رکوانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمت ہے تو بنڈی سنجے کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دلائے ۔ چلر سیاست کرنے کا بنڈی سنجے پر الزام عائد کیا اور زبان کو قابو میں رکھنے کا مشورہ دیا ۔ بی سمن نے کہا کہ کے سی آر کی وجہ سے بنڈی سنجے کو تلنگانہ بی جے پی کی صدارت ملی ہے ۔ اگر کے سی آر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک نہیں چلاتے وہ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بھی نہیں بنتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ کے ونود کمار نے کتہ پلی ، منوہر آباد ریلوے لائن بچھانے ، ٹریپل آئی ٹی کے قیام اور قومی شاہراہوں کی خاطر کافی کوشش کی تھی ۔ ٹریپل آئی ٹی رائچور منتقل ہوگئی ہے ۔ کیا یہ بنڈی سنجے کی ناکامی نہیں ہے ۔۔