بنڈی سنجے کو کس کے کہنے پر ہٹایا گیا … ؟

   

ساز باز آشکار۔ اویسی 10 سال کانگریس کے ساتھ تھے، کانگریس کے مقابلہ ’ ماموں‘ کو ترجیح پر عوام کے شبہات

حیدرآباد۔/29 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی بی جے پی کی ریاستی قیادت میں اچانک تبدیلی پر آج تک راز کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ سیاسی ہنگاموں کے دوران عوام کو اس سوال کا آج تک جواب نہیں دیا گیا کہ کس نے بنڈی سنجے کو اچانک تبدیل کردیا جبکہ وہ تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے فائدہ مند تھے۔ بی جے پی قومی قیادت نے کے سی آر سے مقابلہ کیلئے جارحانہ انداز کارکردگی کیلئے مشہور بنڈی سنجے کو قیادت کی ذمہ داری دی تھی اور انہوں نے منفرد انداز میں پارٹی کیڈر کے حوصلوں کو بلند کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ نہ صرف حیدرآباد بلکہ ریاست کے دیگر علاقوں میں بی جے پی کے گراف میں اضافہ ہوا جس کے زیر اثر پارٹی کو دوباک اور حضورآباد کے ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ بی جے پی کی بڑھتی رفتار سے پریشان کے سی آر نے اپنی حلیف مقامی جماعت کی قیادت کے ساتھ ملکر بنڈی سنجے کی تبدیلی کی منصوبہ بندی کی۔ بی جے پی اعلیٰ کمان کو بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ کیلئے معاہدہ کرتے ہوئے بنڈی سنجے کی جگہ کشن ریڈی کو ریاستی صدر مقرر کرنے کیلئے آمادہ کیا گیا۔ تلنگانہ میں بی جے پی تشکیل حکومت کا خواب دیکھ رہی تھی لیکن اچانک بنڈی سنجے کو ہٹاکر کشن ریڈی کو ریاست کی قیادت سونپ دی گئی جس سے پارٹی کا گراف تیزی سے گھٹ چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق بی جے پی اعلیٰ قیادت کو لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ سے زائد نشستوں کا بھروسہ دلایا گیا جس کے نتیجہ میں اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کیلئے جارحانہ قیادت کی جگہ اعتدال پسند قیادت کو ترجیح دی گئی۔ ہائی کمان کے اس فیصلہ کے بعد کئی سینئر قائدین نے پارٹی سرگرمیوں سے خود کو دور کرلیا یا کانگریس یا بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ مبصرین کے مطابق بی جے پی اعلیٰ قیادت سے ساز باز کے ذریعہ بنڈی سنجے کو تبدیل کردیا گیا۔ دوسری طرف اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شدت سے مخالفت کرنے والی مجلسی قیادت یہ بھول رہی ہے کہ 2004 سے 2014 تشکیل تلنگانہ تک متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس حکومت اور مرکز میں کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت کی تائید کی گئی تھی۔ 10 برسوں تک مرکز اور ریاست میں کانگریس سے قربت کے بعد اب اچانک مجلسی قیادت نے کے سی آر سے دوستی کرلی اور انتخابی مہم میں بی جے پی سے زیادہ کانگریس کی مخالفت اور مذمت کی جارہی ہے۔ کانگریس کو آر ایس ایس کی ماں قرار دینے والے اسد اویسی سے عوام سوال کررہے ہیں کہ مجلس کی تاریخ میں ہمیشہ کانگریس سے مفاہمت اور تائید کی روایت موجود ہے۔ دارالسلام کے حصول سے لے کر تعلیمی اداروں کے قیام اور دیگر امور میں کانگریس کی تائید اور مدد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ گذشتہ دہوں میں جب سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی سے قربت کے وقت یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ کانگریس آر ایس ایس کی ماں ہے۔ اب اچانک کانگریس کو فرقہ پرست قرار دینے کی مہم پر عوام سوشیل میڈیا میں مجلسی قیادت کو نشانہ بنارہے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ بی آر ایس اور بی جے پی کی بیک وقت تائید کرنے کیلئے سیکولر کانگریس کی شبیہ متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجلسی قیادت نے گذشتہ 60 برسوں میں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ کانگریس کی دین تھی لیکن اسوقت کانگریس سیکولر اور مسلم دوست پارٹی تھی۔ مجلس کے سابق صدور عبدالواحد اویسی اور سلطان صلاح الدین اویسی کی کانگریس سے قربت کی تاریخ کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن موجودہ قیادت نے بیک وقت مرکز اور ریاست میں اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے نئی لائن آف ایکشن تیار کی ہے جس نے حیدرآباد کے مسلمانوں میں قیادت سے متعلق کئی شبہات پیدا کردیئے ہیں۔ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان خفیہ مفاہمت کے بارے میں پہلے ہی عوام میں شبہات پائے جاتے ہیں ایسے میں مجلسی قیادت نے بی آر ایس سربراہ کو اپنا ’ ماموں‘ بناکر ان اندیشوں کو تقویت پہنچانے کا کام کیا ہے کہ کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی کے اشاروں پر کام کرنے میں کوئی گریز نہیں ہے۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم مجلسی قیادت سے سوالات سے بھرے پڑے ہیں۔