مرکز سے تلنگانہ کیلئے کیا حاصل کیا، بی جے پی قائدین سے ونود کمار کا سوال
حیدرآباد۔/3اکٹوبر، ( سیاست نیوز) نائب صدرنشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ ونود کمار نے بی جے پی صدر بنڈی سنجے کی پدیاترا کو ناکام قرار دیا اور کہا کہ بنڈی سنجے نے آج تک وضاحت نہیں کی کہ یاترا کا مقصد کیا تھا۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ونود کمار نے کہاکہ سابق میں خشک سالی اور برقی کے مسائل کے سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے پدیاترا کا اہتمام کیا گیا۔ ٹی آر ایس حکومت میں عوام کے کوئی مسائل نہیں ہیں ایسے میں بنڈی سنجے کی پدیاترا مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنڈی سنجے تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کو نشانہ بنارہے ہیں جبکہ ان دونوں شعبوں میں تلنگانہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے جس کا اعتراف خود مرکزی حکومت کو ہے۔ ریاست میں میڈیکل کالجس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور ہر ضلع میں عصری سہولتوں کے ساتھ ڈائیگناسٹک سنٹرس قائم کئے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بنڈی سنحے نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ریاست کیلئے کیا ایک بھی میڈیکل کالج کی منظوری حاصل کی ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے 4 ارکان پارلیمنٹ ہیں لیکن تلنگانہ کی ترقی کیلئے مرکز سے فنڈز کے حصول میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو حکومت پر بیجا تنقیدوں سے گریز کرنا چاہیئے۔ ونود کمار نے کہا کہ بنڈی سنجے کی پدیاترا میں عوام شامل نہیں تھے اور صرف بی جے پی کارکنوں کو دوردراز کے علاقوں سے شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنڈی سنجے کو خود اس بات کا احساس تھا کہ ان کی یاترا ناکام ہوئی ہے حالانکہ کئی قومی قائدین کو یاترا میں شامل کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی اسکیمات کو عام کرنے کیلئے بنڈی سنجے نے برانڈ ایمبسیڈر کا رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ بی جے پی زیر اقتدار کسی بھی ریاست میں کسانوں کیلئے مفت برقی سربراہی کی اسکیم نہیں ہے۔ ر