کولکاتہ: کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے یوتھ ونگ۔مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی۔ایم) کی یوتھ ونگ ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا اور طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے منگل کو مشترکہ طور پر سیالدہ، ہوڑہ اسٹیشن اور پارک اسٹریٹ سے جلوس نکالے اور اس دوران انیس خان (طالب علم رہنما) کے ساتھ انصاف کروکے نعرے لگا رہے تھے۔ وہ روزگار اور مناسب تعلیم کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔ بعد ازاں جلوس جلسے میں تبدیل ہوگیا۔ اس ریلی کو انصاف ریلی کا نام دیا گیا۔ریالی میں ریاست بھر سے ہزاروں طلباء اور نوجوان جمع تھے۔ حالیہ دنوں میں بنگال میں بائیں محاذ یا اپوزیشن کا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔ انصاف سبھا میں ترنمول کانگریس حکومت کی بدعنوانی کے خلاف لوگ جمع ہوئے، روزگار کا مطالبہ، تعلیم کا مطالبہ، انیس خان کے قاتلوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔بنگال میں ممتا کے دور حکومت میں بائیں بازو کے کارکنوں پر حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یہ واقعہ بھی اسی کی ایک توسیع ہے۔ جہاں مقامی پولیس پر بائیں بازو کے ایک نوجوان کارکن کو قتل کرنے کا الزام ہے۔میٹنگ کو سلیم خان (انیس خان کے والد)، سی پی آئی (ایم) کے ریاستی جنرل سکریٹری محمد سلیم، میناکشی مکھرجی، سریجن بھٹاچاریہ، پرتیکور رحمن، میوک بسواس، ہماگھن راج بھٹاچاریہ نے خطاب کیا۔انیس خان بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ایس ایف آئی کے رہنما تھے۔18 فروری کو ہوڑہ کے امتا میں انیس خان کے گھر پہنچ ، پولیس کی وردی میں ملبوس چار افراد نے مبینہ طور پر اسے تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا، جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں کافی عرصے سے طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ تنظیموں نے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ممتا بنرجی حکومت نے تحقیقات کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے لیکن انیس کا خاندان سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر اٹل ہے۔اس واقعہ کو لے کر ریاستی حکومت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ممتا سرکار نے خود عدالت میں اعتراف کیا کہ پولیس کا کردار مشکوک ہے۔