کولکاتہ، 27 نومبر (یو این آئی) مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ممکنہ ناموں کو خارج کیے جانے کے بڑھتے خدشات کے درمیان چیف الیکشن آفیسر کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ تصدیقی عمل کے دوران اب تک تقریباً 26 لاکھ ووٹروں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے ۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اب تک چھ کروڑ ووٹروں کی تفصیلات کی شناخت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے ، جن میں سے تقریباً 26 لاکھ کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے ذریعے تصدیق نہیں ہو سکی۔ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، “جمع کیے گئے فارموں کے عمل کے آگے بڑھنے کے ساتھ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے ۔تاہم، چیف الیکشن آفیسر کے دفتر نے واضح کیا کہ صرف ان تضادات کی بنیاد پر نام خارج نہیں کیے جائیں گے ۔ اس کے بجائے ، افسران کسی بھی فیصلے سے پہلے دوسرے دور کے فزیکل ویریفیکیشن کے لیے پرنٹ شدہ ووٹر لسٹ پر انحصار کریں گے ۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق ریاست بھر میں 7.64 کروڑ ووٹر فارم تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 6.01 کروڑ کا ڈیجیٹلائزیشن ہو چکا ہے۔
ایک سینئر افسر نے بتایا، “باقی فارم بھی جلد ہی ڈیجیٹل کر دیے جائیں گے ۔ مجموعی طور پر مغربی بنگال اس وقت ڈیجیٹلائزیشن کے معاملے میں ملک میں سب سے آگے ہے ۔”
اسی دوران، الیکشن کمیشن نے بدھ کو ایس آئی آر کے عمل کو بخوبی مکمل کرنے کے لیے تین مرکزی افسران کو کولکاتہ میں تعینات کیا۔ یہ افسران، پردھان سکریٹری بی۔ سی۔ پاترا، سکریٹری سومیہ جیت گھوش اور نائب سکریٹری بیبر اگروال، مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر منوج اگروال کے ماتحت کام کریں گے ۔
الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کے باہر بوتھ سطح کے افسران کے ایک گروپ کے گزشتہ دو دن سے جاری احتجاج کے بعد کولکاتہ پولیس سے 48 گھنٹوں میں کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے ۔
