کولکاتہ: مغربی بنگال میں چہارشنبہ کو بی جے پی کی طرف سے 12 گھنٹے کے بند کے دوران بی جے پی اور حکمراں ترنمول کانگریس کے کارکنوں کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئیں اور بند کی وجہ سے نظام زندگی جزوی طور پر متاثر ہوا۔بند کے دوران پرائیویٹ گاڑیاں اور ٹیکسیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ نجی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں حاضری کم درج کی گئی اور کئی بازار اور کاروباری ادارے بند رہے ۔ ریاست کے کچھ حصوں میں ٹرین خدمات بھی متاثر ہوئیں۔صبح 6 بجے سے مختلف اضلاع سے بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں آتی رہیں، جب کہ کلکتہ ہائی کورٹ نے بنگال بند کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا۔کولکاتہ کے منشی بازار اور نادیہ اضلاع اور دیگر علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں۔ ریاست بھر میں بی جے پی کے کئی لیڈروں کو حراست میں لیا گیا، جب کہ نارتھ 24 پرگنا کے بی جے پی لیڈر پریانگو پانڈے نے دعویٰ کیا کہ ترنمول کانگریس کے حامیوں نے ان کی کار پر فائرنگ کی اور بم سے حملہ کیا۔بند کے موقع پر ممتا بنرجی حکومت کی طرف سے دی گئی وارننگ کی وجہ سے زیادہ تر سرکاری ملازمین معمول کے مطابق ڈیوٹی پر آئے ۔
نارتھ بنگال اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (این بی ایس ٹی سی) نے اپنے بس ڈرائیوروں کو حفاظت کیلئے ہیلمٹ پہننے کا مشورہ دیا ہے ۔بند کی کامیابی پر حریفوں کے جوابی دعووں کے درمیان، ٹی ایم سی لیڈر ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ بی جے پی کا بند فلاپ رہا۔انہوں نے سندیشکھلی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی بی جے پی کی ناکام کوششوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مغربی بنگال کو بی جے پی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ معاملہ بی جے پی نے شروع کیا ہے ، لیکن میں اسے ختم کروں گا اورتحریک کو دہلی تک لے جاؤں گا۔