کلکتہ: کلکتہ ہائیکورٹ نے آج مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں تشدد کے دوران مبینہ قتل اور عصمت دری کے واقعات کی عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتابنرجی کی قیادت والی ریاستی حکومت سخت سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ نے ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے سی بی آئی کو 6ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔کلکتہ ہائیکورٹ کی ہدایت قومی حقوق انسانی کمیشن کی ایک رپورٹ کے کچھ حصوں کا حوالہ دیتے کلکتہ ہائیکورٹ نے کہا کہ 60فیصد معاملات میں پولیس انتظامیہ نے ایف آئی آر ہی درج نہیں کی جبکہ وقت کی قلت کی وجہ سے حقوق انسانی کمیشن کی کمیٹی نے متعدد شکایت کنندگان اور متاثرین کے بیانات ریکارڈ نہیں کرسکی۔ ہائی کورٹ نے مزید کہاکہ کمیٹی کی رپورٹ سے چند نمونے کے اعدادو شمار کو نکالا جاسکتا ہے ،جس سے ظاہر ہوتا ہیکہ قتل کے 20 مقدمات میں، جہاں حقوق انسانی کمیشن کی کمیٹی نے ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق سوالات کئے تھے مگر پولیس انتظامیہ نے اس کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ ہائیکورٹ نے مزید کہاکہ ریاستی حکومت کے غیرفعال ہونے کی ایک اور واضح مثال کمیٹی کی رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے جہاں خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم عصمت دری یا پھر عصمت دری کرنے کی کوشش جیسے معاملات کی کمیٹی کے سامنے شکایت کی گئی مگر جب پولس سے رجوع کیا گیا تو اس کا بھی صحیح سے جواب نہیں دیا گیا ۔عدالت نے کہا کہ ان گھناؤنے جرائم کی تحقیقات سے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر اعتماد پیدا ہوسکتا ہے ۔کلکتہ ہائیکورٹ نے جرائم سے متعلق ممتا حکومت کے رویے کو غیر سنجید ہ بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے قتل اورعصمت دری جیسے جرائم سے متعلق سوالات کا صحیح سے جواب نہیں دیا۔