مرکز کو چدمبرم کا کچھ تو لحاظ کرنا چاہئے تھا ۔ چیف منسٹر ممتابنرجی کا اسمبلی میں بیان
کولکتہ 6 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج کہا کہ ان کی ترنمول کانگریس حکومت ریاست میں این آر سی کے نفاذ کی اجازت نہیں دے گی ۔ انہوں نے ریاستی اسمبلی میں کہا کہ این آر سی کا نفاذ کچھ اور نہیں بلکہ مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام ہے ۔ انہوں نے این آر سی پر رول 185 کے تحت مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم بی جے پی کو مغربی بنگال میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس پر عمل آوری کی جازت نہیں دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ این آر سی کا نفاذ مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام کے جذبہ سے کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعہ ملک میں جاری معاشی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسام ملک میں واحد ریاست ہے جہاں حال ہی میں این آر سی پر عمل کیا گیا اور 31 اگسٹ کو این آر سی کی قطعی فہرست جاری کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اب ایسا کوئی نہیں ہے جو بی جے پی کے خلاف بات کرسکے ۔ ممتابنرجی نے سابق وزیر فینانس وداخلہ پی چدمبرم کی آئی این ایکس۔ میڈیا کیس میں گرفتاری کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جس انداز میں انہیں تہاڑ جیل منتقل کیا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ چدمبرم کا تھوڑا سا تو احترام کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ چدمبرم کیس میں کیا کچھ ہے ۔ اس پر قانون اپنا کام کریگا تاہم انہیں تہاڑ جیل میں عام قیدی کی طرح رکھنے کا مقصد کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ چدمبرم سے تھوڑا تو اچھی طرح پیش آتی ۔ واضح رہے کہ چدمبرم کو جمعرات کو دہلی کی ایک عدالت نے آئی این ایکس میڈیا کیس میںجیل بھیج دیا ہے ۔