بنگال میں این آر سی کسی صورت نافذ نہیں ہوگا:ممتا بنرجی

   

Ferty9 Clinic

کولکاتا۔ 20۔نومبر(سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ کے ذریعہ ملک بھر میں این آر سی کے نفاذ کا عز م ظاہر کیے جانے کے بعد ایک بار پھر وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال میں این آر سی اور شہری ترمیمی بل کو نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔مرشدآباد ضلع میں انتظامی میٹنگ کے موقع پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ این آر سی اور شہری ترمیمی بل ایکٹ کا مقصد ملک کے مخصوص طبقے کو پریشان کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر تفریق کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور بنگال میں کسی بھی صورت میں این آر سی اور شہری ترمیمی بل کو نافذ ہونے نہیں دیاجائے گا۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ بنگال میں این آر سی کے نفاذ کی وجہ سے لاکھوں ہندو شہری بھی اس فہرست میں جگہ پانے میں ناکام ہوجائیں گے ۔ہندؤں میں شہری ترمیمی بل ایکٹ کے ذریعہ بھرم پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہندو، سکھ، عیسائی،جین اور بدھشٹ کو شہریت دی جائے گی۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ پہلے غیر ملکی قراردے کر شرطوں کے ساتھ شہریت دینا کہاں تک درست ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس لیے ہم نے بنگال میں اسے نافذ نہیں ہونے دینے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔خیال رہے کہ بی جے پی بنگال میں سب سے پہلے این آر سی کے نفاذ کی بات کرتی رہی ہے ۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ اتحاداور تنوع بنگال کی طاقت ہے اور ا س کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش یہاں کامیاب نہیں ہوگی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہندؤ وں کی ہمدردی کی بات کرنے والے یہ جواب دیں کہ آخر لاکھوں ہندو شہریوں کا نام این آر سی میں شامل کیوں نہیں ہوا۔آسام میں این آر سی کی فہرست میں لاکھو ں کورکھا شہریوں کے نام شامل نہیں ہے ۔وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے ،تعلیمی ادارے خلفشار کے شکار ہیں،ملک کی معیشت خراب ہے ، بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی آسمان کو چھورہا۔مرکزی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے این آر سی کا ایشواٹھارہی ہے ۔وزیرا علیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بنگال کے عوام کیلئے وقف ہیں اور ہمہ وقت ان کیلئے کام کرتے رہیں گے ۔