بنگال میں بائیں بازو اور کانگریس کے درمیان اتحاد ایک معمہ

   

Ferty9 Clinic

مجھے کانگریس سے بات چیت کی کوئی خبر نہیں، بہرام پور میں ادھیر رنجن چودھری کی پریس کانفرنس

کولکتہ : مغربی بنگال میں انڈیا اتحاد کی دو جماعتیں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کا مسئلہ بناہوا ہے ۔ایک طرف جہاں کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے کہا ہے کہ ترنمول کانگریس سے بات چیت جاری ہے اور جلد ی اس مسئلے کو حل کرلیا جائے گا۔دوسری طرف پردیش کانگریس کے صدر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ وہ اس سے متعلق کچھ نہیں جانتے ہیں ۔انہوں نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم مغربی بنگال میں بائیں بازو کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔ترنمول کانگریس کے ساتھ اتحاد کے بارے میں، ادھیر نے کہا کہ وہ نہیں جانتے ہیں کون بات کررہا ہے ۔ ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ ریاستی کانگریس صدر کی حیثیت سے انہوں نے سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم کے ساتھ اتحاد کی بات شروع کی ہے ۔ ادھیررنجن چودھری نے ہفتہ کو بہرام پور میں کانگریس کے دفتر میں پریس کانفرنس کی۔ ان سے مغربی بنگال میں اتحاد کے بارے میں پوچھا گیا۔ حال ہی میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ریاست میں ترنمول کے ساتھ اتحاد کے بارے میں کہاتھا کہ ‘‘ہم ممتا بنرجی سے بات چیت کر رہے ہیں۔ بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہے ۔ لیکن ابھی تک کچھ طے نہیں ہوا ہے ۔ جب ادھیر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہاکہ ‘‘میں جے رام رمیش کے تبصروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ میں مغربی بنگال ریاستی کانگریس کا صدر ہوں۔ مجھے یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ میرے بغیر کچھ ہوا ہے یا نہیں۔ ادھیر نے طنز کیا کہ حکمراں ترنمول اپوزیشن اتحاد اانڈیا اتحاد میں ہونے کی وجہ سے دوہرے بحران میں مبتلا ہے ۔ترنمول ایک بار سوچ رہی ہے کہ اگر ہم انڈیا الائنس چھوڑ کر الیکشن لڑیں گے ، تو اقلیتی طبقہ ہمارے خلاف ووٹ دے گا، ہماری حمایت نہیں کرے گا۔ حکمران جماعت کا ایک اور خوف یہ ہے کہ اگر ہم بنگال میں بی جے پی کے خلاف لڑیں گے تو مودی کی مرکزی ایجنسی ہمارے خلاف استعمال ہو گی۔ بائیں بازو اور کانگریس کے کیمپ بھی ریاست میں اتحاد کو لے کر عجیب و غریب صورت حال میں مبتلا ہیں۔ سلیم اس مہینے 16 فروری کو اتحاد سے متعلق ادھیررنجن چودھری سے بات کرنے کیلئے بہرام پور آئے تھے مگر ادھیررنجن چودھری سے ملاقات نہیںہوسکی ۔سلیم کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق سلیم اور ادھیر نے ممکنہ اتحاد کے بارے میں جمعہ کی رات فون پر تفصیلی بات چیت کی ہے ۔ اس کے بعد بھی ریاستی قیادت اس کشمکش میں ہے کہ پارٹی ہائی کمان بائیں بازو کانگریس اتحاد پر مہر لگائے گی یا نہیں۔