نعش بازار میں لٹکی پائی گئی ۔ گورنر اور بی جے پی کا سی بی آئی جانچ کا مطالبہ
رائے گنج؍کولکاتا: مغربی بنگال میں شمالی دیناج پور ضلع کے ہمت آباد سے بی جے پی رکن اسمبلی دیویندر ناتھ رائے کی نعش پیر کی صبح ان کے گھر سے ایک کلومیٹر دور بندال گاؤں میں ایک دکان کے سامنے لٹکی پائی گئی۔بی جے پی قیادت اور رکن اسمبلی کے گھروالوں نے الزام لگایا کہ دیویندر کا پہلے قتل کیا گیا اور اس کے بعد نعش لٹکا دی گئی ۔ پولیس اس واقعہ کی جانچ کررہی ہے ۔پولیس نے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی ان کی موت کی وجہ کا پتہ چل سکے گا۔ریاستی گورنر جگدیپ دھنکر نے اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ بنگال میں سیاسی انتقام اور تشدد کی سیاست چل رہی ہے ۔ انھوں نے دیویندر کی موت کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے پر زور دیا۔ اس دوران بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے کہاکہ ریاست میں لاء اینڈ آرڈر نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہے ۔ اب رکن اسمبلی محفوظ نہیں تو عام آدمی کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔ بی جے پی نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ بنگال پولیس اس معاملے کی انکوائری کرنے کی اہل نہیں ۔ واضح رہے کہ مئی 2019 ء میں دیویندر کے ساتھ سوبھرانچ رائے ،تشار کانتی بھٹا چاریہ اور 50 سے زیادہ کونسلرز نئی دہلی میں بی جے پی کے سینئر لیڈر مکل رائے اور کیلاش وجے ورگھیا کی موجودگی میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے ۔دیویندر اس سے پہلے سی پی ایم لیجسلیٹرتھے لیکن بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہوکر رکن اسمبلی بنے ۔ دیویندر کی فیملی نے بتایا کہ رات دیر گئے فون کال کے بعد رکن اسمبلی تقریباً ایک بجے اپنے بلیا میں واقع گھر سے باہر نکلے تھے ۔ان کی لاش ایک بند پرچون کی دکان کے پاس لٹکی ہوئی ملی۔
