بنگال میں تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے :ادھیررنجن چودھری

   

کولکتہ: ادھیررنجن چودھری نے آج بریگیڈ ریلی سے ترنمول کانگریس اور بی جے پی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم ختم ہوگئے ہیں۔آج کی بھیڑ کے بعد نہ ترنمول کانگریس رہے گی اور بی جے پی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ دیدی اور مودی کا سیاسی این ڈی اے ہے ۔دونوں کی تربیت ایک ہی جگہ ہوئی ہے ۔ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ اب ممتا بنرجی کی حکومت کے رخصتی کا وقت آگیا ہے ۔ریاست تبدیلی کی راہ پر ہے ۔اس ریاست کو نہ بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی چاہیے اور نہ ہی ممتا بنرجی جیسی لوٹ مار کی سرکار چاہیے ۔پٹرول کی قیمت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ممتا بنرجی چاہتی تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی لاکر ریاست کے عوام کو راحت دے سکتی تھی مگر انہوں نے دکھانے کے لئے صرف ایک روپے کی کمی کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت 15روپے کم کرسکتی تھی ۔ چھتیس گڑھ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے ۔ ویٹ کو کم کریں ، راتوں رات تیل کی قیمتوں میں کمی کریں۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور کوہلی دونوں سنچری بنانے جا رہے ہیں۔ ادھیر کا دعوی ہے کہ تیل کی اصل قیمت 32 سے 33 روپے فی لیٹر ہے ۔ مگر دوگنی قیمت پر تیل فروخت کیا جارہا ہے ادھیررنجن چودھری جب تقریر کررہے تھے کہ اسی درمیا ن عباس صدیقی اسٹیج پر آئے ۔محمد سلیم اور دیگر لیڈروں نے ان کا خیر مقدم کیا ۔ادھیررنجن چودھری اس پر معمولی ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے اپنی تقریر ختم کرنا چاہ رہے تھے مگر انہیں بمان بوس اور محمد سلیم نے تقریر جاری رکھنے کو کہا ۔ ادھیر چودھری کا واضح پیغام تھا ، “یہ اتحاد مذہب پر مبنی نہیں ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ بنگال میں سیکولر جمہوری قوت کا قیام عمل میں لایا جائے ۔” ہم چاہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ طاقت کو شکست ہو۔ نئی تبدیلیوں کی قوس قزح کو دیکھ رہے ہیں۔