بنگال میں دوسری ضمنی ووٹر لسٹ ، ٹی ایم سی کو جزوی راحت

   

کولکاتا ۔ 28 مارچ (یواین آئی) ترنمول کانگریس کی جانب سے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اپنے 11 امیدواروں کی صورتحال پر فوری مداخلت کی درخواست کرنے کے چند گھنٹوں بعد الیکشن کمیشن نے جمعہ کی رات شائع کی گئی دوسری ضمنی ووٹر لسٹ میں دو امیدواروں کو منظوری دے دی۔ اس پیش رفت سے حکمران جماعت کو جزوی راحت ملی ہے ، کیونکہ شیام پکور کی امیدوار ششی پانجا اور حسن حلقے کے امیدوار کاجل شیخ کے نام تازہ فہرست میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ترنمول کے نو امیدواروں کے نام اب بھی “خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران “زیر غور” فہرست میں ہیں۔ اب تک ان دونوں کے نام “زیر غور” زمرے میں رکھے گئے تھے ، لیکن اب ان کے نام فہرست میں شامل ہو گئے ہیں، جس سے ان کے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ اگرچہ دو امیدواروں کو منظوری مل گئی ہے ، لیکن اترپاڑہ کی امیدوار تیشانیا بندوپادھیائے کے لیے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ، کیونکہ ان کا نام دوسری ضمنی فہرست میں شامل نہیں ہے ۔ اس وجہ سے ان کی امیدواری معلق ہو گئی ہے ۔ ریاست میں ووٹنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی۔ پہلے مرحلے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 6 اپریل ہے ، جبکہ دوسرے مرحلے کے امیدوار 9 اپریل تک اپنے کاغذات جمع کرا سکتے ہیں۔ کمیشن کے قواعد کے مطابق امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہو تاکہ وہ کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے اہل ہوں۔ اس سے قبل ترنمول کانگریس نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور درخواست کی تھی کہ کاغذاتِ نامزدگی کی آخری تاریخ سے پہلے امیدواروں کے نام طے کیے جائیں۔ پارٹی رہنما چندریما بھٹاچاریہ نے چیف جسٹس سُجَے پال کو تین صفحات کے خط میں فوری مداخلت کی اپیل کی تھی۔ اس دوران ترنمول کے ان امیدواروں کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے جن کے نام اب بھی “زیر غور” زمرے میں ہیں۔

23 مارچ کو، انتخابات سے تقریباً ایک ماہ پہلے ، کمیشن نے آدھی رات کے قریب پہلی ضمنی ووٹر لسٹ جاری کی تھی۔ اس کے مقابلے میں دوسری فہرست جمعہ کی رات تقریباً 11:30 بجے شائع کی گئی۔ ذرائع کے مطابق، دوسری فہرست کے اجرا کے ساتھ اب تک تقریباً 37 لاکھ ووٹروں کی صورتحال واضح ہو گئی ہے ، جبکہ تقریباً 23 لاکھ معاملات اب بھی زیر التواء ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ پہلے “زیر غور” کے طور پر نشان زد افراد میں سے کتنے کو نئی فہرست میں شامل کیا گیا ہے یا خارج کیا گیا ہے ۔ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے یہ ابہام مزید بڑھ گیا ہے ۔ پہلی فہرست کے اجرا کے بعد کمیشن نے کہا تھا کہ اگلے دن صبح بوتھوں پر ہارڈ کاپی لگائی جائے گی، لیکن پورے دن کنفیوژن رہا اور ویب سائٹ کی تکنیکی خرابی کے باعث کئی لوگ اپنی حیثیت آن لائن جانچ نہیں سکے ۔ جمعہ کو بھی اسی طرح کی مشکلات رہیں اور دوسری ضمنی فہرست بھی غیر یقینی کے دائرے میں رہی۔